عدالت کا پی آئی اے کی ملازمہ کی بحالی کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم
پی آئی اے کی ملازمہ کی بحالی کی سماعت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پی آئی اے کی ملازمہ کی نوکری سے برطرفی کالعدم قرار دینے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے پی آئی اے کی ملازمہ کی بحالی کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم صادر کر دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق عدالت نے پی آئی اے کی ملازمہ کو تمام فوائد و واجبات کی ادائیگی کا بھی حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اپنی عظمت دوبارہ حاصل کررہا ہے: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز
عدالت کی جانب سے وضاحت
عدالت کا کہنا تھا کہ ماتحت فورمز کے فیصلوں میں کوئی بے ضابطگی ثابت نہیں ہوئی، ایسی صورت میں ہائیکورٹ کی مداخلت کا جواز نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ بھی ممکن ہے کہ بالکل نئی پٹری بچھائی جائے جو پرانے وقتوں کے سارے دکھوں کو بھلا کر خراماں خراماں افغانستان کی سرحد تک جا پہنچے
پی آئی اے وکیل کی دلیل
وکیل پی آئی اے کا کہنا تھا کہ صائمہ حفیظ سومرو کو 2017 میں نوکری سے غیر حاضر رہنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، انکوائری کے بعد ملازمہ کو ملازمت سے برطرف کیا گیا۔
ملازمہ کے وکیل کا موقف
وکیل ملازمہ نے کہا کہ ماتحت عدالت نے شواہد کو نظر انداز کرکے ملازمہ کی برطرفی کالعدم قرار دی، درخواست گزار اپنے والد کی علالت کے باعث رخصت پر تھیں۔
وکیل ملازمہ نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس مناسب چھٹیاں موجود تھیں تاہم ایچ آر نے چھٹیاں منظور نہیں کیں، ملازمہ کو شوکاز نوٹس قانونی مدت گزر جانے کے بعد جاری کیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ انکوائری کے دوران ملازمہ کو گواہوں کی جرح کا حق بھی نہیں دیا گیا، ملازمہ کے خلاف کی گئی تمام کارروائی غیر قانونی تھی۔








