نیا دیہات تحریک
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 470
یہ بھی پڑھیں: میئر کراچی 23 گھنٹے بعد آگ سے متاثر گل پلازہ اور ڈی سی آفس کا دورہ، شہریوں کا احتجاج، نعرے بازی
جنرل پارک کے دیس میں
ہم سیول پہنچے تو 27 اگست کا سورج طلوع ہوئے گھنٹہ بھر ہی گزرا تھا۔ اس سرزمین پر ہمارا قیام 13 ستمبر تک تھا۔ کوریا نے 1969ء میں "جنرل پارک" کی قیادت میں ایک پروگرام "seamual undong" شروع کیا تھا۔ کورین زبان کے ان الفاظ کا مطلب ہے "نیا دیہات تحریک"۔ یہ تحریک 1970ء میں شروع کی گئی اور 1979ء میں اس کا اختتام ہوا۔ 10 سال کی قلیل مدت میں یہ تحریک کوریا کی دیہی زندگی میں انقلاب کا باعث بنی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سندھ کا باکسر عثمان وزیر کی مالی امداد اور سہولیات دینے کا اعلان
تحریک کا بنیادی مقصد
اس تحریک کا بنیادی مقصد دیہاتوں سے شہروں کی جانب آبادی کی منتقلی روکنا تھا۔ جس کیلئے ضروری تھا کہ دیہاتوں میں ایسی تمام سہولیات پہنچائی جائیں جو شہر کے لوگوں کو دستیاب تھیں۔ تحریک 3 الفاظ تعاون (cooperation)، منصوبہ بندی (planning) اور کام سے عشق (diligence) کے گرد گھومتی تھی۔ ہمارے ہاں ان تینوں الفاظ کا فقدان ہے۔ ہم تو قائد کے بتائے 3 سنہری الفاظ "تنظیم، یقین، اتحاد" پر آج تک عمل نہ کر سکے۔ جنگ زدہ کوریائی دیہاتوں کو ترقی اور جدید بنانے کی تحریک کے کمال نتائج برآمد ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (پیر) کا دن کیسا رہے گا ؟
دیہی کوریا کی کامیابی
10 سال کی قلیل مدت تک چلنے والی اس تحریک نے زرعی کوریا کو انڈسٹریل کوریا میں بدلنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ساری تحریک کا نمایاں پہلو اپنی مدد آپ تھا۔ حکومت صرف ٹیکنیکل معاونت فراہم کرتی تھی۔ اس تحریک سے دیہی کوریا کی فی کس آمدنی شہری آمدنی سے کہیں زیادہ ہو گئی۔ دیہاتوں میں بھی ویسی ہی سہولیات دستیاب ہوئیں جیسی شہروں میں تھیں تو لوگوں نے شہروں کا رخ کرنا ہی چھوڑ دیا۔ ترقی کا ایک راز آبادی پر قابو پانا بھی تھا، اور کورین یہ راز بھی خوب جانتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار نے ایران کے معاملے میں ہونیوالی کاوشوں سے پردہ اٹھادیا
پاکستان کے لیے سبق
اسی مومنٹ کو اسٹڈی کرنے ہم یہاں آئے تھے کہ "اس کامیاب تجربے سے پاکستان میں کس طرح سے فائدہ اٹھا سکتا تھا؟" یہ یاد رہے کہ کوریا نے اس تحریک کا خیال ہمارے دیہات سدھار پروگرام سے لیا تھا۔ ہے نا کمال!
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی کے چیف کیوریٹر ٹونی ہیمنگ مستعفی ہوگئے
انچن ہوائی اڈے کا تجربہ
انچن ہوائی اڈے کے امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچے تو KOICA کی نمائندہ خاتون جو جنت کی حور ہی لگ رہی تھی ہماری منتظر تھی۔ 10 منٹ میں ہم امیگریشن سے فارغ ہوئے۔ کورین حکومت کی اس ذیلی تنظیم کے دفاتر دنیا کے 100 سے زیادہ ممالک میں ہیں جہاں یہ ان ممالک کے افسران کیلئے تربیت، ڈگری کورسز اور ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈ کا اجرا کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلال بن ثاقب کی سلواڈور کے صدر سے ملاقات، بٹ کوئن مائننگ اور توانائی کے وسائل پر گفتگو
سول شہر
لوگ اس شہر کو "سیول" کہہ کر پکارتے ہیں جبکہ درست تلفظ "سول" ہے۔ آرام دہ بس ہوائی اڈے سے روانہ ہوئی تو شاندار سڑک سے گزرتی کوئیکا ہیڈ کواٹرز کو رواں تھی۔ اس ملک کی سڑکوں، عمارات، برجز، موٹر کاروں کو دیکھ کر اندازہ کرنا بہت آسان تھا کہ یہ ملک دنیا کے جدید ترین ممالک میں سے ایک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ کی کشیدگی: حج فلائٹ شیڈول کی تیاری عارضی طور پر روک دی گئی
اقتصادی ترقی
یہاں شہری علاقوں میں فی کس آمدنی میں تقریباً 22 ہزار جبکہ دیہی علاقوں میں 24 ہزار ڈالرز سالانہ ہے۔ کوریا کا شمار دنیا کے مہنگے ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر میں ہی ہماری بس ایک جدید ترین hanging bridge سے گزر رہی تھی۔ شہر کی رونق اور چکاچوند کو پیچھے چھوڑتی سے گزرتی شاہراہ کوئیکا ہیڈ کواٹرز پہنچتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دورہ بنگلہ دیش، شاداب سمیت 3قومی کرکٹر فٹنس مسائل کا شکار ہو گئے۔
نظام زندگی کی جھلک
اس شہر کا ٹریفک نظام، آسمان سے باتیں کرتی جدید عمارات، ہاؤسنگ ٹاورز، سڑکیں اور ان پر دوڑتی جدید چمچماتی موٹر کاریں، شاید دنیا کی جدید ترین عمارات، سڑکیں اور موٹر کاریں ہیں۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








