پاکستان کی سفارتی کامیابی کا سنہری کردار
پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی
"ان بابرکت، روحانی دنوں اور گھڑیوں میں، حکومت اور عوامِ پاکستان کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ایران کے ساتھ اپنی یکجہتی اور حمایت کا بھرپور اظہار کیا"۔ ایک ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ کے آسمانوں پر جنگ کے بادل چھائے ہیں، گرجتے اور برستے جنگی جہاز کی گھن گھرج اور ہزاروں ڈرون کی پروازیں فضا میں لرزہ طاری کر رہی ہیں، تیل کے کنوؤں سے سیاہ دھواں اٹھ رہا ہے، چمکتی دمکتی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ کے بکھر رہے ہیں اور تھرتھراتے سمندر کے شفاف ساحلوں پر خوف اور عدم تحفظ ہے، پورا خطہ پریشان اور امیر ممالک محتاط ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فلم دھڑنڈر کا اداکار گرفتار، ملازمہ سے 10 سال تک زیادتی کا سنگین الزام
پاکستان کا کردار
جب بظاہر سفارتکاری ناکام دکھائی دے رہی تھی، ان حالات میں ایران کی جانب سے پاکستان کے کردار کا سراہا جانا، وہ تاج ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کو پہنایا گیا۔ یہ عزت ہے جو سرمائے اور طاقت سے خریدی نہیں جا سکتی اور وہ گواہی ہے جو تاریخ کے صفحات پر جگمگاتی رہے گی۔ سونے پر سہاگا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہر پل مشکل کی طرف بڑھتی صورتحال میں جن دو ممالک کا شکریہ ادا کیا، اُن میں سے ایک پاکستان ہے اور دوسرا ترکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صوابی میں سردیوں میں جس بے رحمی کے ساتھ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، وہ ناقابلِ برداشت ہے، شہرام خان ترکئی
وزیر اعظم کا وژن
پوری دنیا اس حقیقت کی معترف نظر آتی ہے کہ وزیر اعظم جناب محمد شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار پر مشتمل دور اندیش ٹیم نے ناممکن کو ممکن کر دیا۔ یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب پورا خطہ پریشان اور امیر ممالک محتاط تھے، پاکستان خاموشی سے ہر قسم کے دباؤ کو پس پشت ڈال کر کشیدگی کم کرنے کی شب و روز محنت میں مصروف تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مقبوضہ کشمیر عمر عبداللہ نے بھی جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کی تعریف کر دی
سفارتی کوششیں اور کامیابیاں
اس غیر یقینی صورتحال میں وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کے وژن اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی قیادت میں پاکستان کی بصیرت، دانشمندی اور ثابت قدمی دنیا کے سامنے ایک طاقتور ریاست کے طور پر ابھری ہے۔ پاکستان حکمت پر مبنی سفارتی کردار کے باعث خطے میں اب تک بحران کافی حد تک ٹل رہا ہے اور مستقبل قریب میں بھی حالات قابو میں رہنے کی ہی امید ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارا مقصد صرف بنگلہ دیش کو عزت دلانا تھا، بی سی بی کے تمام مطالبات مانے گئے ، محسن نقوی
قوم کی مشترکہ حکمت عملی
بلاشبہ اس کامیابی کا سہرا سول و ملٹری قیادت کی مشترکہ حکمت عملی کے سر جاتا ہے۔ حالیہ چند ماہ میں سفارتی محاذ پر یہ پہلی کامیابی نہیں ہے۔ مئی میں ہم نے بھارت کے منفی پروپیگنڈے، ڈس انفارمیشن اور پلوامہ جیسے سازشی ڈراموں کو بے نقاب کر کے عالمی سطح پر حقیقت کی قوت دکھائی۔ اسی طرح امریکہ کے ساتھ ایک اہم تجارتی معاہدے میں بھی کامیابی اسی محنت اور سفارتی مہارت کا نتیجہ تھی۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں نوبیاہتا دلہن شوہر اور سسرالیوں کے تشدد سے جاں بحق، زہر دینے کی تصدیق
نائب وزیراعظم کا کردار
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شخصیت میں عاجزی، دوسروں کے لیے خیرخواہی اور بصیرت کی جاذبیت جھلکتی ہے۔ یہ سفارتی کامیابیاں کسی ایک لمحے کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل المدتی وژن، قومی ہم آہنگی اور مسلسل محنت کا ثمر ہیں۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو بعید نہیں کہ تاریخ اس دور کو پاکستان کی سفارتکاری کے ایک نئے سنہری باب کے طور پر یاد کرے۔
یہ بھی پڑھیں: سونا 4300روپے فی تولہ مہنگا
نتیجہ
یہ سب وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی قیادت میں ممکن ہوا جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سفارتی محاذ پر "LEAD FROM THE FRONT" کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور باوقار ریاست کے طور پر عالمی منظرنامے پر اپنی شناخت برقرار رکھ سکے گا جب کہ داخلی استحکام، اقتصادی ترقی، بہتر گورننس اور سماجی انصاف کی فراہمی ناگزیر ہے۔
نوٹ: یہ مصنفہ کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
مصنفہ کا تعارف
زینب وحید پرائم منسٹر نیشنل یوتھ کونسل کی ممبر ہیں۔ امریکی کارلٹن کالج کی اسکالرشپ ہولڈر طالبہ ہیں۔ کلائمٹ ایکٹوسٹ اور جرنلسٹ ہیں۔ پاکستان میں اقوام متحدہ اور حکومت پاکستان نے مشترکہ طور پر انہیں "کلائمٹ ہیرو" کے اعزاز سے نوازا ہے۔








