سعودی عرب کا ایران کو سخت الٹی میٹم، حملے نہ رکے تو جواب کیلئے تیار رہو
سعودی عرب کا سخت پیغام
ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن) سعودی عرب نے ایران کو واضح اور سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی جارحیت کے خلاف اس کا صبر لامحدود نہیں، اور اگر خلیجی ممالک پر حملے فوری بند نہ کیے گئے تو سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ جبکہ مملکت نے کھل کر فوجی کارروائی کا حق بھی محفوظ رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: این ڈی ایم اے کی سال 2026 میں 22 سے 26 فیصد زائد بارشوں کی پیش گوئی
ایران کی پالیسی پر تنقید
سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا کہ امید ہے ایران آج کے پیغام کو سمجھ چکا ہوگا۔ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مذاکرات کے بجائے دباؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، تاہم یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہوگی بلکہ الٹا نقصان دہ ثابت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: چین اور پاکستان کا دوستانہ تعلق ہمارا اثاثہ ہے: وفاقی وزیر عطاء تارڑ
سعودی عرب کا عزم
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ سعودی عرب کسی بھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر جو معمولی اعتماد باقی تھا وہ بھی حالیہ حملوں کے بعد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، جبکہ خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کے جواز ناقابل قبول ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 27 ویں ترمیم، اب صرف اللہ کی عدالت باقی رہ گئی، اسد قیصر
حملوں کے نتائج
انہوں نے خبردار کیا کہ ان حملوں کے نتائج ضرور سامنے آئیں گے اور ایران کی علاقائی تنہائی میں مزید اضافہ ہوگا۔
حالیہ حملے اور سعودی فضائی دفاع
رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے ایران نے ریاض سمیت متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور قطر پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے، جنہیں تہران نے امریکی و اسرائیلی کارروائیوں کا ردعمل قرار دیا ہے۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق حالیہ حملے میں ریاض کی جانب داغے گئے چار بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، جبکہ اب تک سعودی فضائی دفاعی نظام 457 سے زائد ڈرونز، 40 بیلسٹک میزائل اور 7 کروز میزائل ناکام بنا چکا ہے۔








