پاکستان کی آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کی سزاؤں کی شدید مذمت
پاکستان کا شدید احتجاج
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے دہلی کی عدالت کی جانب سے معروف کشمیری سیاسی رہنما آسیہ اندرابی کو عمر قید اور ان کی ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 30،30 سال قید کی سزا سنائے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اپنی ہی دنیا میں رہتا ہے اور کسی کے کنٹرول میں نہیں – روح افزا کے خلاف ویڈیو بنانے پر عدالت کی بابا رام دیو پر اظہار برہمی
دفتر خارجہ کا بیان
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دہلی کی عدالت کی جانب سے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے تحت سنایا گیا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے اور بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بنیادی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ ریما نے نعیمہ بٹ کو بال نہ کٹوانے کا مشورہ دیدیا
سیاسی بنیادوں پر مقدمات
ترجمان کے مطابق پاکستان اس فیصلے کو سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات کے وسیع تر سلسلے کا حصہ سمجھتا ہے جس کا مقصد اختلافی آوازوں کو دبانا اور کشمیری عوام کے جائز حقوق کیلئے آواز اٹھانے والوں کو خوفزدہ کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی تقرری لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
قانونی عمل پر سوالات
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے سے شفاف قانونی عمل، عدلیہ کی آزادی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے تقاضوں پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مرچیں جلانا، بکرے کے سر قبرستان پھینکوانا، بشریٰ کے آنے کے بعد عمران خان کے گھر عجیب رسومات شروع ہوئیں: دی اکانومسٹ
آسیہ اندرابی کی حکمت عملی
دفتر خارجہ کے مطابق آسیہ اندرابی طویل عرصے سے کشمیر کاز کی ایک نمایاں آواز رہی ہیں اور ان کی سزا بھارتی زیر قبضہ کشمیر میں سیاسی اظہار اور شہری آزادیوں کو محدود کرنے کی بھارتی کوششوں کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قائد اعظم کے رہنما اصول آج بھی پاکستان کا روشن مستقبل ہیں: عظمیٰ بخاری
خطے میں کشیدگی
ترجمان کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں اور امن و استحکام کے امکانات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا عراق، کویت اور سعودی عرب میں امریکی اڈوں پر ڈرون و میزائل حملوں کا دعویٰ
بین الاقوامی برادری کی مداخلت
پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور بھارت کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرائیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا بیرونی مالیاتی خلا 28-2027 تک 88 کھرب روپے رہے گا: آئی ایم ایف
کشمیری عوام کے حقوق
بیان میں کشمیری عوام کے سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے تحفظ، اظہار رائے کی آزادی اور منصفانہ ٹرائل کے حق کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
حق خودارادیت کی حمایت
پاکستان نے جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کے لئے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا ہے، جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں درج ہے.








