موجودہ کشیدگی پیٹرو ڈالر کے لیے خطرہ ہے، ڈوئچے بینک
برلن کی رپورٹ: عالمی مالیاتی نظام کے لیے چیلنجز
جرمن مالیاتی ادارے ڈوئچے بینک کی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی عالمی مالیاتی نظام کے لیے ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جو توانائی کی تجارت اور عالمی ذخائر میں امریکی ڈالر کی بالادستی کو کمزور کرنے کے عمل کو تیز کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 15 سال کی تھی جب ٹرمپ نے زیادتی کی کوشش کی، نئی ایپسٹین فائلز میں امریکی صدر پر خاتون سے زیادتی کا الزام
ملیکہ سچدیوا کی تنبیہ
بینک کی اسٹریٹجسٹ ملیکہ سچدیوا نے ایک سخت لہجے میں لکھے گئے نوٹ میں کہا کہ یہ جنگ “پیٹروڈالر کے لیے ایک مکمل طوفان” بن سکتی ہے، جو کئی دہائیوں سے قائم اس نظام کو خطرے میں ڈال رہی ہے جس نے عالمی سطح پر ڈالر کی برتری کو سہارا دیا۔ ان کے مطابق ایران تنازع ڈالر کے لیے طویل المدتی طور پر اس لحاظ سے اہم ہو سکتا ہے کہ یہ پیٹروڈالر نظام کی بنیادوں کو آزمائے گا، اور اگر ان میں دراڑیں گہری ہوئیں تو اس کے عالمی تجارت، بچت اور ریزرو کرنسی کے ڈھانچے پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین پی سی بی کی شاہین شاہ آفریدی اور بابر اعظم کو ون ڈے رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر پہنچنے پر مبارکباد
پیٹروڈollar نظام کی بنیادیں
1974 میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد سے خام تیل تقریباً مکمل طور پر ڈالر میں قیمت لگایا جاتا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ایک ایسا مالیاتی چکر قائم ہوا جس میں ممالک ڈالر کماتے، محفوظ رکھتے اور پھر امریکی اثاثوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ یہی پیٹروڈالر نظام طویل عرصے سے ڈالر کو عالمی ریزرو کرنسی کا درجہ دینے میں بنیادی کردار ادا کرتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر کسی کے پاس دلیل اور تربیت نہ ہو، تو دوسروں کی کردار کشی ہی اس کا واحد سہارا بن جاتی ہے، شیرافضل مروت کا ثمینہ پاشا کو مشورہ
تبدیلی کے آثار
تاہم رپورٹ کے مطابق اب اس نظام کو غیر معمولی دباؤ کا سامنا ہے۔ دنیا بڑی حد تک اس لیے ڈالر میں بچت کرتی ہے کیونکہ عالمی ادائیگیاں بھی ڈالر میں ہوتی ہیں، اور تیل کی مرکزی حیثیت کے باعث عالمی سپلائی چینز پہلے ہی ڈالرائز ہو چکی ہیں۔ لیکن موجودہ تنازع سے پہلے ہی تبدیلی کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے۔ مشرق وسطیٰ کے تیل کی طلب اب زیادہ تر ایشیا سے آ رہی ہے، جبکہ چین اپنی کرنسی یوآن میں تجارت کو فروغ دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اٹک میں سواری بٹھانے پر تنازع، ٹیکسی ڈرائیور باپ بیٹے سمیت 3 افراد قتل
سعودی عرب کا چین کی طرف جھکاؤ
رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ سعودی عرب اب امریکہ کے مقابلے میں چین کو چار گنا زیادہ تیل برآمد کر رہا ہے، جو توانائی کی جغرافیائی سیاست میں ایک بڑی ساختی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، اور جنگ اس تبدیلی کو مزید تیز کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدہ صورتحال، پی ایس ایل کے باقی تمام میچز ملتوی ، پی سی بی کا اعلان
سیکیورٹی کے خطرات
موجودہ تنازع نے ایک اور بڑا خطرہ پیدا کر دیا ہے، جو سیکیورٹی سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے۔ پیٹروڈollar نظام صرف قیمتوں کا نہیں بلکہ خلیجی تیل کی ترسیل کے لیے امریکی عسکری تحفظ پر بھی مبنی تھا، لیکن اب اس مفروضے کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شیخوپورہ: ٹرین کی ٹکر سے 17 سالہ نوجوان جاں بحق
ایران کی可能ہ حکمت عملی
رپورٹ کے مطابق ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایران یوآن میں ادائیگی کے بدلے تیل کی ترسیل کی اجازت دے، جو ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل کمیشن کا قیام، سپیکر قومی اسمبلی نے نام مانگ لیے
اقتصادی تبدیلی کے اثرات
ڈوئچے بینک نے ایک ایسے ممکنہ مستقبل کی نشاندہی کی ہے جہاں تیل کی منڈیاں جغرافیائی سیاسی بنیادوں پر تقسیم ہو جائیں، یعنی مشرق وسطیٰ کی تجارت یوآن میں اور مغربی ممالک کی تجارت ڈالر میں ہو۔ اس طرح کی تقسیم ڈالر کی سب سے بڑی طاقت، یعنی اس کے عالمی نیٹ ورک اثرات کو کمزور کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ اور نیتن یاہو کی غزہ جنگ بندی پر 24 گھنٹوں میں دوسری خفیہ ملاقات
خلیجی ممالک کی حکمت عملی
اسی دوران خلیجی ممالک، جن کے پاس تقریباً 8 ٹریلین ڈالر کے ذخائر اور خودمختار فنڈز موجود ہیں، جنگی دباؤ کے باعث اپنی معیشتوں کو سہارا دینے کے لیے ڈالر اثاثے فروخت کرنا شروع کر سکتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر ڈالر کی گردش مزید کم ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ندامت پر مبنی روئیے کے ذریعے آپ اپنے ماضی یا مستقبل کو تبدیل کر لیں گے تو پھر آپ کسی اور ہی سیارے کی مخلوق ہیں جہاں کی حقیقت مختلف ہے
ماحولیاتی توانائی کی طرف رجحان
بینک کے مطابق سب سے بڑا خطرہ صرف کرنسی کی تبدیلی نہیں بلکہ توانائی کے شعبے میں بنیادی تبدیلی ہے۔ اگر دنیا تیل پر کم انحصار کرنے لگتی ہے تو ڈالر کی ضرورت بھی خود بخود کم ہو جائے گی۔
خلاصہ
اگرچہ ایران تنازع فوری طور پر ڈالر کی حکمرانی کا خاتمہ نہیں کرے گا، لیکن یہ اس نظام کو ضرور کمزور کر سکتا ہے جس نے ڈالر کی برتری کو ناگزیر بنا رکھا تھا۔ یوآن میں تیل کی تجارت، توانائی کی خود کفالت اور بدلتے عالمی اتحاد اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ایک سست مگر فیصلہ کن تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے۔








