ایران کو بھیجی گئی 15 نکاتی امریکی تجاویز میں کیا شامل تھا؟ امریکی خبر ایجنسی نے اہم تفصیلات شیئر کر دیں
امریکی تجاویز اور ایران
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کو بھیجی گئی امریکی تجاویز میں کیا شامل تھا؟ امریکی خبر ایجنسی نے اہم تفصیلات شیئر کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں طلبہ کے لیے قومی سطح پر خود دفاعی تربیتی مہم کا آغاز
ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام
تفصیلات کے مطابق، امریکی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات کے لیے ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل پروگرام کا خاتمہ بھی امریکی تجاویز میں شامل ہے۔ ایران کو امریکی تجاویز پہنچانے والے دو پاکستانی اور ایک مصری عہدیدار نے امریکی خبر ایجنسی سے گفتگو کی۔
یہ بھی پڑھیں: بھائی جان ہمیشہ اُن کا کام کرتے جن سے کوئی فائدہ ہو، مشکل میں ماں باپ کے علاوہ صرف سایہ ہی ساتھ رہتا ہے یا کوئی مخلص غریب دوست
15 نکاتی تجاویز
خبر ایجنسی کے مطابق، پاکستانی عہدیدار نے بتایا کہ ایران کو امریکہ کی 15 نکاتی تجاویز پہنچائی گئی ہیں، جن میں ایران پر پابندیوں میں نرمی بھی شامل ہے۔ پاکستانی عہدیدار نے مزید بتایا کہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کا خاتمہ، اور آبنائے ہرمز کو کھولنا بھی ان تجاویز میں شامل ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی طرف سے ایران کی نگرانی بھی مجوزہ منصوبے میں شامل ہے، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان سویلین جوہری تعاون بھی تجویز کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی عمران خان کو جیل میں رکھنے میں کامیاب ہوگئی ہے، فیصل واوڈا کا مخصوص نشستوں کے فیصلے پر رد عمل
پاکستان کی پوزیشن
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق ایک پاکستانی اعلیٰ عہدیدار نے امریکی خبر ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔ پاکستان مشرق وسطیٰ تنازع کے حل کے لیے تمام فریقوں سے رابطہ کر رہا ہے، اور سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے پاکستان کی وابستگی غیرمبہم اور پختہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا واحد عہدیدار جو تنخواہ نہیں لیتا بلکہ جہاز کی ٹکٹیں بھی اپنی جیب سے خریدتا ہے
ایرانی اور امریکی عہدیداروں کی ملاقات
پاکستانی اور مصری عہدیدار نے بتایا کہ ایرانی اور امریکی عہدیداروں کی ملاقات جمعے کو پاکستان میں ہوسکتی ہے۔ مصری عہدیدار کے مطابق 15 نکاتی تجاویز جنگ بندی پر پہنچنے کا جامع معاہدہ ہے، جس میں مسلح گروپوں کی ایرانی حمایت پر پابندی بھی شامل ہے۔
مذاکرات کے امور
سربراہ آئی اے ای اے رافیل گروسی کے مطابق، امریکہ ایران مذاکرات نہ صرف نیوکلیئر ایشو بلکہ وسیع امور پر ہوں گے۔ میزائل، ایران سے جڑی ملیشیا، اور سیکیورٹی یقین دہانیاں مذاکرات کا حصہ ہوںگی۔








