نظر انتخاب آپ کی طرف گئی ہے۔ کل آئیں، اچھے تعلقات کے باوجود ایسی بات کہہ جاتے جس سے دل دکھ جاتا،سوچا شاید یہ خواہش کی قبولیت کا وقت ہو
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 478
تربیتی ٹور سے واپس آیا۔ کمشنر سے ملا اور انہیں کوریا اور وہاں لی گئی تربیت سے آگاہ کیا۔ وہ خوش تھے کہ مجھے غیر ملکی تربیت کا موقع ملا تھا۔ وہ اکثر میرے لیے اچھی خواہشات کا اظہار کرتے رہتے تھے۔ کئی بار مجھے کہہ چکے تھے کہ؛ "یار! I wish you would have been a CSP" یہ ان کی محبت اور بڑا پن تھا۔
دل کی باتیں
ان سے اچھے تعلقات کے باوجود وہ کبھی کبھار ایسی بات کہہ جاتے تھے جس سے دل دکھ جاتا تھا۔ ایک روز کسی بات پر خفا ہوئے تو کہنے لگے؛ “تم یہاں سے جا کہاں سکتے ہو؟” اس ذو معنی فقرے کو میں نے بہت محسوس کیا اور انہیں جواب دیا؛ “سر! I have no interest here. Neither have any friend nor relative to support or help.”
ڈپٹی سیکرٹری کا بلاوا
اللہ نے میرا بھرم رکھنا تھا۔ 2 دن بعد ہی مجھے لاہور سے ڈی ایس (ڈویلپمنٹ) شاہد فرید کا فون آیا۔ انہوں نے کہا؛ “ہمیں لالہ موسیٰ اکیڈمی کے لیے ایک افسر کی ضرورت ہے۔ نظر انتخاب آپ کی طرف گئی ہے۔ کل آئیں اور اسی سلسلے میں سیکرٹری بلدیات خالد مسعود چوہدری آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔” کمشنر کی چند روز پہلے کہی بات بھی میرے ذہن میں تھی اور میری ہمیشہ سے خواہش بھی تھی کہ کاش مجھے کبھی اکیڈمی کو ہیڈ کرنے کا موقع ملے تو میں اس کو اعلیٰ درجے کی تربیت گاہ بنانے کی کوشش کروں گا۔
ملاقت کا مقام
اگلے روز میں شاہد فرید کے ہمراہ سیکرٹری بلدیات سے ملا۔ شاہد فرید نے ان سے کہا؛ “سر! آپ شہزاد کو بطور ڈائریکٹر آکیڈمی لالہ موسیٰ بھیجنا چاہ رہے تھے، یہ تیار ہیں۔” انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ بطور ڈائریکٹر اکیڈمی آپ کون سے 2 بنیادی کام کریں گے۔ میں نے جواب دیا؛ “سر! میری خواہش اور کوشش ہو گی کہ آکیڈمی ایک ایسی تربیت گاہ کے طور پر جانی جائے جو محکمے کے ماتھے کا جھومر ہو۔ اعلیٰ تربیتی روایات کی حامل، جہاں ملک کے کونے کونے سے آئے شرکاء فخر محسوس کریں کہ ہم لالہ موسیٰ لوکل گورنمنٹ اکیڈمی کے تربیت یافتہ ہیں۔” جواب سن کر وہ خوش ہوئے اور کہنے لگے؛ “مجھے اور محکمے کو آپ سے ایسی ہی توقع ہے۔ کل آپ کو ٹرانسفر آڈرز مل جائیں گے۔”
چارج تسلیم کرنا
میں نے انہیں کہا؛ “سر! کمشنر گوجرانوالہ شمائیل خواجہ مجھے آسانی سے چارج نہیں چھوڑنے دیں گے۔” وہ بولے؛ “That's not your headache.” دوسرے دن مجھے ٹرانسفر آڈرز مل گئے۔ میں نے کمشنر کو بتایا تو کہنے لگے؛ “مجھے پوچھے بغیر چارج نہیں چھوڑنا۔” میں نے جواب دیا؛ “سر! نئے افسر مصطفی بھٹی چارج لینے آ رہے ہیں۔” اگلے روز باریش جیلر بھٹی آ گیا۔ یہ میرا بیج میٹ تھا۔ کبھی جیلر رہا تھا لیکن بلدیات کے محکمے نے اس کی جیلر والی سختی نکال کر اسے سیدھا سادہ انسان بنا دیا تھا۔
کتاب ختم ہونے تک
بھٹی کے ساتھ کمشنر سے ملا اور اس کا تعارف کرایا اور کہا؛ “سر! نئے افسر آگئے ہیں اور میں جانا چاہ رہا ہوں۔” بولے؛ “دو دن ٹھہر جاؤ اور بھٹی صاحب کو کام کے بارے میں بتا دو۔” 2 دن گزرے تو مجھے کمشنر کے پی اے نے بتایا؛ “کمشنر موڈ میں نہیں کہ آپ کو جانے دیں۔ بھٹی صاحب ان کے ساتھ چل بھی نہیں سکتے۔” خیر اگلے روز میں نے بھٹی کو جلدی آنے کا کہا۔ وہ صبح ساڑھے آٹھ بجے پہنچ گیا۔ میں نے چارج اس کے حوالے کیا۔ 10 بجے لالہ موسیٰ چارج لیا اور چارج رپورٹ سیکرٹری بلدیات کو میل کر دی اور فیکس بھی۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








