سہولیات کا فقدان تھا، نواڑ کی چارپائیاں تھیں، پنکھے پرانے ہوا کم گھوں گھوں زیادہ کرتے تھے، آپ کی محبت کا شکریہ۔ بعض باتیں دل میں اتر جاتی ہیں
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 479
25 سال بعد لالہ موسیٰ
لالہ موسیٰ اور اکیڈمی میرے لئے نئی نہ تھی بلکہ میرا گہرا تعلق رہا تھا۔ میری پہلی پوسٹنگ لالہ موسیٰ ہوئی تھی اور اکیڈمی میں پچیس(25) سال پہلے تربیت حاصل کرنے آیا تھا۔ اس وقت یہاں سہولیات کا فقدان تھا۔ میس کا خرچہ خود برداشت کرنا پڑتا تھا۔ نواڑ کی چارپائیاں تھیں۔ چھت کے پنکھے پرانے ہوا کم اور گھوں گھوں زیادہ کرتے تھے۔ کمیونٹی باتھ رومز تھے اور اکلوتا کلاس روم بھی کسی سرکاری ہائی سکول کی کلاس جیسا ہی تھا۔ لگا تھا کہ تربیت نہیں پھر سے سکول چلے آئے تھے۔ ڈویلپمنٹ پارٹنرز کی بدولت پچیس سال بعد یہاں کافی کچھ بدل چکا تھا۔ میں آنکھوں میں نئے خواب سجائے یہاں آیا تھا۔
کمشنر کے پی اے کا فون
ساڑھے گیارہ بجے مجھے کمشنر کے پی اے کا فون آیا کہ "صاحب! آپ کا پوچھ رہے تھے۔ پتہ چلنے پر سیکرٹری بلدیات کو فون کیا ٹرانسفر روکوانے کا کہا۔ وہ نہیں مانے اور نہ ہی انہوں نے کوئی زیادہ بات کی۔ اب موڈ آف ہے۔" میں نے جواب دیا؛ "سرکار کے ملازم کو وہیں نوکری کرنی ہے جہاں حکم ہو گا۔ ویسے جلد ہی ان سے ملنے آؤں گا۔"
کمشنر سے ملاقات
تم کبھی بھی آ سکتے ہو؛ سچی بات ہے کچھ ناگوار لمحات کے باوجود میرا کمشنر گوجرانوالہ کے ساتھ اچھا وقت گزرا تھا۔ لالہ موسیٰ جوائن کرنے کے چند دن بعد سوچا ان سے ملاقات کر آؤں۔ وہ اپائنٹمنٹ کے بغیر کسی سے نہیں ملتے تھے۔ اگر کوئی آ بھی جاتا تو خوب انتظار کرواتے تھے۔ اگر کبھی رانا یعقوب یاد بھی کراتا تو جواب دیتے؛ "میں نے تو اسے نہیں بلایا تھا۔" اس خفت سے بچنے کے لئے میں نے انہیں فون کرکے وقت مانگا تو کہنے لگے؛ "شہزاد! اگر میں دفتر ہوں تو جب چاہو آکر مل سکتے ہو۔ تمھارے لئے وقت کی کوئی بندش نہیں۔" اگلے روز میں انہیں ملنے چلا آیا۔
شکریہ ادا کرنے کی ملاقات
بڑے تپاک سے ملے۔ چائے پلائی۔ گپ شپ ہوئی۔ کہنے لگے؛ "یہ اچانک تم کیوں چلے گئے؟" میں نے انہیں یاد دلایا؛ "سر! کچھ ہفتے پہلے آپ نے ہی کہا تھا تم یہاں سے نہیں جا سکتے۔ مجھے آپ کا فقرہ اچھا نہیں لگا تھا۔ مجھے موقع ملا اور میری خواہش بھی تھی کہ لالہ موسیٰ اکیڈمی کو ہیڈ کروں سو چلا گیا۔ سر! آپ کے ساتھ اچھا وقت گزرا۔ آپ سے میں نے سیکھا بھی بہت کچھ۔ آپ نے مجھ سے بھر پور تعاون کیا اور میری رہنمائی بھی۔ آپ کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔" کہنے لگے؛ "شہزاد! تم نے مجھے لاجواب کر دیا ہے۔ وہ بات تو میں نے بس یونہی کی تھی۔ آپ نے بہت اچھا وقت گزارا۔ اپنی ذمہ داری خوب نبھائی۔ اگلا آنے والا افسر تم جیسا نہیں ہو گا۔ میری نیک تمنائیں تمھارے ساتھ ہیں۔ کبھی کوئی مشکل ہو تو میں حاضر ہوں۔" میں نے جواب دیا؛ "سر! آپ کی محبت کا شکریہ۔ بعض باتیں دل میں اتر جاتی ہیں۔ اس روز بھی آپ کی کہی بات میرے دل میں دور تک اتر گئی تھی۔"
اے سی آرز کا تحفہ
انہوں نے میری دو اے سی آرز لکھیں شاید میرے کیریئر کی بہترین تھیں۔ کوئی بھی افسر ان کے ریمارکس پڑھتا تو ایک بات ضرور کہتا تھا؛ "یار! خواجہ صاحب نے یہ اے سی آر لکھیں۔ کمال ہے۔ کمال۔" میں سمجھتا ہوں یہ بھی ان کا بڑا پن تھا۔ میں اپنی کتاب "سندھو سلطنت" انہیں دینے ان کے گھر ڈی ایچ اے لاہور گیا۔ بڑے تپاک سے ملے۔ گھنٹہ بھر گپ شپ کرتے رہے۔ خاندانی لوگ خاندانی ہی ہوتے ہیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








