یوکرین اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط
یوکرین اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا تاریخی معاہدہ
دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) یوکرین اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں، جس کا اعلان یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے جمعہ کے روز اپنے غیر اعلانیہ دورہ سعودی عرب کے دوران کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور میں شہری کے اندھے قتل کا ڈراپ سین، ایک خاتون سمیت دو ملزم گرفتار لیکن وجہ کیا بنی؟ شرمناک تفصیلات
معاہدے کی تفصیلات
رائٹرز کے مطابق، یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ اس فریم ورک معاہدے کی بنیاد پر مستقبل میں دفاعی کنٹریکٹس، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔ یہ معاہدہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات سے قبل طے پایا۔ ٹیلی گرام ایپ پر اپنے پیغام میں، یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ "ہم اپنی مہارت اور دفاعی نظام سعودی عرب کے ساتھ شیئر کرنے اور زندگیوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے پاس بھی ایسی صلاحیتیں موجود ہیں جو یوکرین کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔
زیلنسکی کا دورہ اور اس کی اہمیت
صدر زیلنسکی کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب روس اور یوکرین کی جنگ اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ جاری حالیہ تنازع نے خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اس دورے کا ایک اہم پہلو واشنگٹن پوسٹ کی وہ رپورٹ ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ، یوکرین کے لیے مختص اسلحے کی سپلائی کو مشرقِ وسطیٰ کی جانب موڑنے پر غور کر رہا ہے۔ ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث امریکی اسلحے کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ یوکرین کو ملنے والی فوجی امداد میں کمی آ سکتی ہے۔ ایسے حالات میں زیلنسکی خلیجی ممالک سے تعاون حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔








