روس ایران کو امریکی بحری بیڑوں اور فضائی نقل و حرکت کی جاسوسی کے لیے اہم سیٹلائٹ ڈیٹا فراہم کر رہا ہے، الجزیرہ کی رپورٹ میں دعویٰ
ماسکو اور تہران کا بڑھتا ہوا فوجی تعاون
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ماسکو اور تہران کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تعاون اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ تنازع کے حوالے سے الجزیرہ کی ایک تفصیلی تجزیاتی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس ایران کو امریکی بحری بیڑوں اور فضائی نقل و حرکت کی جاسوسی کے لیے اہم سیٹلائٹ ڈیٹا فراہم کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا بڑا بل منظور، امریکہ میں مقیم لاکھوں بھارتیوں کو اربوں کے نقصان کا خدشہ
روسی 'لیانا' سسٹم کی اہمیت
ایران کو ملنے والا یہ ڈیٹا روس کے جدید ترین 'لیانا' (Liana) سسٹم سے حاصل ہو رہا ہے، جو خاص طور پر امریکی کیریئر اسٹرائیک گروپس کی نشاندہی اور انہیں ہدف بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امداد کو "معمولی" قرار دیا ہے، تاہم دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ روس کی جانب سے انٹیلی جنس اور تکنیکی معاونت ایران کو خطے میں امریکی اثاثوں پر حملوں میں مدد دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی اپنے خلاف درج تمام مقدمات یکجا کرنے کی درخواست عدم پیروی پر خارج
ڈرون حملے کی مثال
جس کی ایک مثال حال ہی میں قبرص میں برطانوی فضائی اڈے پر ہونے والا ڈرون حملہ ہے، جس میں روسی ساختہ 'کومیٹا-بی' نیویگیشن سسٹم استعمال کیا گیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، روس دہائیوں سے ایران کو اربوں ڈالر مالیت کا اسلحہ فراہم کر رہا ہے، جس میں جدید فضائی دفاعی نظام، تربیتی اور لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹر، بکتر بند گاڑیاں اور سنائپر رائفلیں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے دفاتر کے 50فیصدعملے کو آن لائن کام پر منتقل کرنے کا حکم
عالمی معیشت اور یوکرین تنازع پر اثرات
دوسری جانب، اس جنگ کے عالمی معیشت اور یوکرین تنازع پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بندش کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جس کا براہِ راست فائدہ صدر پیوٹن کو پہنچ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس کل ہو گا، ایجنڈا جاری ، پاکستان فرسٹ کے جذبے سے بیٹھیں گے : وزیر خزانہ
روس کی مالی استحکام
تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے روس کو مالی طور پر مستحکم کر دیا ہے، یہاں تک کہ صدر ٹرمپ کو روسی تیل پر عائد پابندیاں عارضی طور پر معطل کرنے پر غور کرنا پڑا تاکہ معاشی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس ایران کی مکمل فوجی فتح میں دلچسپی نہیں رکھتا، بلکہ وہ اس تنازع کو یوکرین میں اپنے مقاصد حاصل کرنے اور عالمی سطح پر امریکہ کو دباؤ میں لانے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
تہران کی حکمت عملی
تہران بھی اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کو مکمل شکست نہیں دے سکتا، اس لیے وہ عالمی معیشت کو مفلوج کرنے اور علاقائی سطح پر جنگ کو پھیلانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔








