لاہور ہائی کورٹ نے بابراعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، تحریری فیصلہ جاری
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے قومی کرکٹر بابراعظم کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس آج طلب، ایجنڈے بھی جاری
درخواست کی منظوری
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق عدالت نے بابر اعظم کی اندراج مقدمہ کے خلاف دائر درخواست منظور کرلی۔ بابر اعظم نے درخواست میں جسٹس آف پیس کے مقدمہ درج کرنے کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ویلڈن! شاباش! قوم کو آپ پر فخر ہے! وزیر داخلہ محسن نقوی پولیس اور ایف سی جوانوں کا حوصلہ بڑھانے ڈی چوک پہنچ گئے
تحریری فیصلہ
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت نے فریقین کے وکلاء کے تفصیلی دلائل سنے اور مقدمے کا ریکارڈ بھی تفصیل سے دیکھا۔ خاتون کے الزامات بظاہر قابلِ یقین نہیں، آٹھ سال تک خاموش رہنا غیر معمولی صورتحال ہے، اتنے طویل عرصے بعد الزام سامنے آنا سوالیہ نشان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شروع میں وکٹ آسان نہیں تھی تو کپتان کو بتایا کہ پہلے نارمل کرکٹ کھیلنی ہے اور پھر میں اپنے انداز میں کھیلوں گا، صاحبزادہ فرحان کی پچ پر سلمان آغا سے بات چیت
مقدمہ درج کرنے کا حکم
فیصلے میں کہا گیا کہ صرف شادی کے وعدے کا دعویٰ تاخیر کو جواز فراہم نہیں کرتا، ریکارڈ پر ایسا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے، الزامات کی تائید کے لیے شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ جسٹس آف پیس نے مناسب جانچ کے بغیر حکم جاری کیا، جسٹس آف پیس کا مقدمہ درج کرنے کا حکم قانون کے مطابق نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں کتوں پر پابندی میں توسیع
خاتون کا الزام
جسٹس آف پیس نے خاتون حمیزہ مختار کی درخواست پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی تھی۔ خاتون نے درخواست گزار بابر اعظم پر شادی کا جھانسہ دے کر تعلقات قائم کرنے کا الزام لگایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ: ماحول کی بہتری کیلئے پلاسٹک شاپنگ بیگز پر مکمل پابندی عائد
تحقیقات اور دلائل
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اسجد جاوید گھرال نے بابر اعظم کی درخواست پر آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار بابر اعظم کی جانب سے بیرسٹر حارث عظمت پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: دوسرا ون ڈے: پاکستان کا جنوبی افریقا کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
اختلافات اور الزامات
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ خاتون کے مطابق دونوں کے درمیان طویل عرصے تک تعلقات رہے۔ خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ تعلقات تقریباً آٹھ سال تک جاری رہے۔
خاتون کے مطابق اس دوران وہ 2015 میں حاملہ بھی ہوئی۔ خاتون نے الزام لگایا کہ بعد میں اس کا حمل ضائع کروا دیا گیا۔
خاتون کے مطابق درخواست گزار نے اس سے بڑی رقم بھی حاصل کی۔ خاتون کا مؤقف تھا کہ بعد میں درخواست گزار نے شادی سے انکار کر دیا۔
جواب دہی کے عمل
فیصلے میں کہا گیا کہ جسٹس آف پیس نے خاتون کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا، درخواست گزار نے جسٹس آف پیس کے حکم کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔








