لاہور ہائی کورٹ نے بابراعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، تحریری فیصلہ جاری
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے قومی کرکٹر بابراعظم کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار نے سینیٹ اجلاس میں منی بل رپورٹ پیش کردی
درخواست کی منظوری
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق عدالت نے بابر اعظم کی اندراج مقدمہ کے خلاف دائر درخواست منظور کرلی۔ بابر اعظم نے درخواست میں جسٹس آف پیس کے مقدمہ درج کرنے کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: شکاگو سے بوسٹن پہنچا طیارہ لینڈنگ کے دوران رن وے سے پھسل گیا
تحریری فیصلہ
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت نے فریقین کے وکلاء کے تفصیلی دلائل سنے اور مقدمے کا ریکارڈ بھی تفصیل سے دیکھا۔ خاتون کے الزامات بظاہر قابلِ یقین نہیں، آٹھ سال تک خاموش رہنا غیر معمولی صورتحال ہے، اتنے طویل عرصے بعد الزام سامنے آنا سوالیہ نشان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جو ایک فیصد طلباء اعلیٰ تعلیم کیلیے باہرجاتے ہیں وہ ضرور انگریزی پڑھیں لیکن پوری قوم کے بچوں پر ایک غیر ملکی زبان کو مسلط کیا جانا قرین عقل نہیں ہے۔
مقدمہ درج کرنے کا حکم
فیصلے میں کہا گیا کہ صرف شادی کے وعدے کا دعویٰ تاخیر کو جواز فراہم نہیں کرتا، ریکارڈ پر ایسا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے، الزامات کی تائید کے لیے شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ جسٹس آف پیس نے مناسب جانچ کے بغیر حکم جاری کیا، جسٹس آف پیس کا مقدمہ درج کرنے کا حکم قانون کے مطابق نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ سے نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے قیام کا بل منظور
خاتون کا الزام
جسٹس آف پیس نے خاتون حمیزہ مختار کی درخواست پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی تھی۔ خاتون نے درخواست گزار بابر اعظم پر شادی کا جھانسہ دے کر تعلقات قائم کرنے کا الزام لگایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: طیارے سے آف لوڈ کیا گیا شخص ایئرپورٹ سے لاپتا، پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم
تحقیقات اور دلائل
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اسجد جاوید گھرال نے بابر اعظم کی درخواست پر آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار بابر اعظم کی جانب سے بیرسٹر حارث عظمت پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: باجوڑ کی تحصیل خار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، 4 پولیس اہلکار شہید
اختلافات اور الزامات
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ خاتون کے مطابق دونوں کے درمیان طویل عرصے تک تعلقات رہے۔ خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ تعلقات تقریباً آٹھ سال تک جاری رہے۔
خاتون کے مطابق اس دوران وہ 2015 میں حاملہ بھی ہوئی۔ خاتون نے الزام لگایا کہ بعد میں اس کا حمل ضائع کروا دیا گیا۔
خاتون کے مطابق درخواست گزار نے اس سے بڑی رقم بھی حاصل کی۔ خاتون کا مؤقف تھا کہ بعد میں درخواست گزار نے شادی سے انکار کر دیا۔
جواب دہی کے عمل
فیصلے میں کہا گیا کہ جسٹس آف پیس نے خاتون کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا، درخواست گزار نے جسٹس آف پیس کے حکم کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔








