لاہور ہائی کورٹ نے بابراعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، تحریری فیصلہ جاری
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے قومی کرکٹر بابراعظم کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے انسانی سمگلروں کے سہولت کار ایف آئی اے اہلکاروں کی نشاندہی کی ہدایت کردی
درخواست کی منظوری
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق عدالت نے بابر اعظم کی اندراج مقدمہ کے خلاف دائر درخواست منظور کرلی۔ بابر اعظم نے درخواست میں جسٹس آف پیس کے مقدمہ درج کرنے کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: قبضہ مافیا کا باب ہمیشہ کیلئے بند، نجی اراضی پر قبضے کا فیصلہ 90 دن میں ہوگا، ڈِسپیوٹ ریزولیشن کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ
تحریری فیصلہ
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت نے فریقین کے وکلاء کے تفصیلی دلائل سنے اور مقدمے کا ریکارڈ بھی تفصیل سے دیکھا۔ خاتون کے الزامات بظاہر قابلِ یقین نہیں، آٹھ سال تک خاموش رہنا غیر معمولی صورتحال ہے، اتنے طویل عرصے بعد الزام سامنے آنا سوالیہ نشان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی کی نئی قیمت مقرر، نوٹیفکیشن جاری
مقدمہ درج کرنے کا حکم
فیصلے میں کہا گیا کہ صرف شادی کے وعدے کا دعویٰ تاخیر کو جواز فراہم نہیں کرتا، ریکارڈ پر ایسا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے، الزامات کی تائید کے لیے شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ جسٹس آف پیس نے مناسب جانچ کے بغیر حکم جاری کیا، جسٹس آف پیس کا مقدمہ درج کرنے کا حکم قانون کے مطابق نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ منظر عام پر آ گئی
خاتون کا الزام
جسٹس آف پیس نے خاتون حمیزہ مختار کی درخواست پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی تھی۔ خاتون نے درخواست گزار بابر اعظم پر شادی کا جھانسہ دے کر تعلقات قائم کرنے کا الزام لگایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کرک میں سکیورٹی فورسز کا مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن، کالعدم تنظیم کا انتہائی مطلوب کمانڈر مارا گیا
تحقیقات اور دلائل
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اسجد جاوید گھرال نے بابر اعظم کی درخواست پر آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار بابر اعظم کی جانب سے بیرسٹر حارث عظمت پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: حمیرہ اصغر کے بھائی نے میت وصول کرنے کے بعد بیان جاری کر دیا
اختلافات اور الزامات
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ خاتون کے مطابق دونوں کے درمیان طویل عرصے تک تعلقات رہے۔ خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ تعلقات تقریباً آٹھ سال تک جاری رہے۔
خاتون کے مطابق اس دوران وہ 2015 میں حاملہ بھی ہوئی۔ خاتون نے الزام لگایا کہ بعد میں اس کا حمل ضائع کروا دیا گیا۔
خاتون کے مطابق درخواست گزار نے اس سے بڑی رقم بھی حاصل کی۔ خاتون کا مؤقف تھا کہ بعد میں درخواست گزار نے شادی سے انکار کر دیا۔
جواب دہی کے عمل
فیصلے میں کہا گیا کہ جسٹس آف پیس نے خاتون کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا، درخواست گزار نے جسٹس آف پیس کے حکم کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔








