وفاق ہمارے ساتھ مسلسل زیادتی کر رہا، مزید برداشت نہیں کریں گے: سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا بیان
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاق ہمارے ساتھ مسلسل زیادتی کر رہا ہے، اب مزید برداشت نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کسی بھی مسجد کو بند کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی: محکمۂ داخلہ پنجاب
ملاقات کا پس منظر
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے ضلع خیبر کے قومی مشران اور قبائلی عمائدین پر مشتمل وفود نے ملاقاتیں کیں، جن میں عوامی مسائل، امن و امان اور ترقیاتی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ریاستی اداروں پر الزامات کا کیس، سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم
تجاویز اور ترقیاتی حکمت عملی
دوران ملاقات قومی مشران اور قبائلی عمائدین نے علاقے کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لئے تجاویز پیش کیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیوڈ بیکھم کا نام سرکاری اعزاز کی لسٹ میں شامل، لیکن وہ ایک غلطی جس کی وجہ سے ان کا نام نکالا جاسکتا ہے
مالی امور کی تفصیلات
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ ضم اضلاع کیلئے این ایف سی کی مد میں 1375 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ انضمام کے وقت وفاقی حکومت نے ضم اضلاع کے لئے 100 ارب سالانہ کا وعدہ کیا تھا، وفاق کی جانب سے ضم اضلاع کیلئے سات سال میں صرف 168 ارب ملے، 532 ارب بقایا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر داخلہ محسن نقوی کا نادرا ہیڈکوارٹرز کا دورہ، ادارے کی کارکردگی اور جاری منصوبوں پر بریفنگ
وفاق کی زیادتی
انہوں نے کہا کہ وفاق ہمارے ساتھ مسلسل زیادتی کر رہا ہے، یہ مزید برداشت نہیں کریں گے، ضم اضلاع کیلئے ایک ہزار ارب روپے کا جامع ترقیاتی پیکج لا رہے ہیں، اس پیکج میں ہر شعبے اور ہر ضم ضلع کیلئے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں، کوئی بھی ضلع یا علاقہ ترقی سے محروم نہیں رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس افسران نے مجھ پر تشدد کیا اور بیوی کو قتل کرنے کا اعتراف کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے: غلام مرتضیٰ
مستقبل کے منصوبے
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں کی مشاورت سے تیراہ پیکج کی تیاری پر کام جاری ہے، باڑہ ڈیم کیلئے آئندہ مالی سال میں فنڈز مختص کی جائے گی جبکہ خیبر انڈسٹریل زون پر کام جاری ہے۔
مقامی مسائل کا حل
انہوں نے مزید کہا کہ ضلع خیبر کے جبہ ڈیم کا مسئلہ حل ہوگیا ہے، ریگی للمہ کا مسئلہ قومی مشران اور عمائدین کی مشاورت سے حل کیا جائے گا۔








