وفاقی آئینی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے رہائی فورس کی تشکیل پر جواب طلب کرلیا
وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے رہائی فورس کی تشکیل کے خلاف کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے 10 دن میں جواب طلب کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان صفدر کی عمران خان سے طویل ملاقات، رپورٹ آج سپریم کورٹ میں پیش کریں گے۔
سماعت کی تفصیلات
وفاقی آئینی عدالت میں رہائی فورس کی تشکیل کے خلاف درخواست پر سماعت چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ عدالت نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو 10 دن میں جواب جمع کروانے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں: حسین حمید نے سالانہ جمخانہ گالف چیمپئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا
درخواست گزار کا مؤقف
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں شواہد سے متعلق دستاویزات پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ان کا مقابلہ ڈاکوؤں سے ہے جبکہ امن و امان سے متعلق کراچی ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے کہا ہے کہ اگر انہیں پرول پر رہائی ملی تو وہ افغانستان کے ساتھ تنازعے کے حل میں کردار ادا کرسکتے ہیں، بیرسٹر سیف
عدالت کے سوالات
سماعت کے دوران جسٹس علی باقر نے استفسار کیا کہ کیا کابینہ کی جانب سے ایسی فورس بنانے کی اجازت دی گئی تھی؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ کابینہ نے ایسی کوئی اجازت نہیں دی۔
عدالت کی ہدایت
عدالت نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ قانون کی خلاف ورزی نہ ہونے کو یقینی بنایا جائے۔ چیف جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ سزا یافتہ افراد کیلئے ایسی فورس نہیں بننی چاہیے۔








