وفاقی آئینی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے رہائی فورس کی تشکیل پر جواب طلب کرلیا
وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے رہائی فورس کی تشکیل کے خلاف کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے 10 دن میں جواب طلب کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے گزشتہ سال چین سے کتنے ارب ڈالرز کے شمسی پینلز درآمد کیے ۔۔؟ تفصیلات سامنے آ گئیں
سماعت کی تفصیلات
وفاقی آئینی عدالت میں رہائی فورس کی تشکیل کے خلاف درخواست پر سماعت چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ عدالت نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو 10 دن میں جواب جمع کروانے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ٹیم سے بدترین شکست پر سابق آسٹریلوی کھلاڑی برس پڑے
درخواست گزار کا مؤقف
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں شواہد سے متعلق دستاویزات پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ان کا مقابلہ ڈاکوؤں سے ہے جبکہ امن و امان سے متعلق کراچی ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہتک عزت کیس، برطانوی عدالت نے عادل راجہ پر مزید جرمانہ عائد کر دیا
عدالت کے سوالات
سماعت کے دوران جسٹس علی باقر نے استفسار کیا کہ کیا کابینہ کی جانب سے ایسی فورس بنانے کی اجازت دی گئی تھی؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ کابینہ نے ایسی کوئی اجازت نہیں دی۔
عدالت کی ہدایت
عدالت نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ قانون کی خلاف ورزی نہ ہونے کو یقینی بنایا جائے۔ چیف جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ سزا یافتہ افراد کیلئے ایسی فورس نہیں بننی چاہیے۔








