وفاقی آئینی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے رہائی فورس کی تشکیل پر جواب طلب کرلیا
وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے رہائی فورس کی تشکیل کے خلاف کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے 10 دن میں جواب طلب کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہوائی بازی کی تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ، قطر امریکہ سے 200 ارب ڈالرز کے 160 ہوائی جہاز خریدے گا
سماعت کی تفصیلات
وفاقی آئینی عدالت میں رہائی فورس کی تشکیل کے خلاف درخواست پر سماعت چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ عدالت نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو 10 دن میں جواب جمع کروانے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں: جانتا ہوں اسلام آباد سانحہ کے بعد دل رنجیدہ اور ٹوٹ چکے ہیں، مگر بسنت کینسل کرنے سے ہم دشمن کے آگے جھک جائیں ؟ ڈر جائیں ؟ یہی تو دشمن کا ٹارگٹ ہے،رانا سکندر حیات
درخواست گزار کا مؤقف
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں شواہد سے متعلق دستاویزات پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ان کا مقابلہ ڈاکوؤں سے ہے جبکہ امن و امان سے متعلق کراچی ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ، انسانی باقیات کا ڈی این اے ٹیسٹ اور فرانزک کہاں ہورہا ہے؟ ورثاء، سیاسی، مذہبی جماعتوں اور تاجروں کو اعتماد میں لیا جائے، فاروق ستار
عدالت کے سوالات
سماعت کے دوران جسٹس علی باقر نے استفسار کیا کہ کیا کابینہ کی جانب سے ایسی فورس بنانے کی اجازت دی گئی تھی؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ کابینہ نے ایسی کوئی اجازت نہیں دی۔
عدالت کی ہدایت
عدالت نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ قانون کی خلاف ورزی نہ ہونے کو یقینی بنایا جائے۔ چیف جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ سزا یافتہ افراد کیلئے ایسی فورس نہیں بننی چاہیے۔








