معاملات درست کرنا مشکل تھا، عادتیں چھوڑنا ہماری جبلت میں نہیں،سیانے کہتے ہیں کہ مشکل وقت ایک گٹھ(کونے) میں رہ کر گزارنا چاہیے
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 485
یہ بھی پڑھیں: بابر اعظم اور محمد رضوان کے بغیر پاکستان ٹیم انٹرنیشنل ٹورنامنٹس کے لیے فٹ نہیں، فواد چوہدری
ہوسٹل کے حالات
قاری پناہ گاہ میں؛ ہوسٹل کے حالات بھی اچھے نہ تھے۔ بیڈ شیٹس پرانی اور اپنی عمر پوری کر چکی تھیں۔ کراکری کا بھی یہی حال تھا۔ ریسٹ ہاؤس میں فریج تھا نہ ہی ڈسپنسر نہ ہی ٹی وی اور نہ ہی ڈھنگ کے برتن۔ ہوسٹل میں آنے والے سامان خور و نوش میں گڑ بڑ ہوتی تھی۔ یہاں سے خشک راشن اور پکا کھانا کچھ افسروں کے گھروں میں جاتا تھا۔ یہ سب دوست ہی تھے لہٰذا نام کیا لکھنا۔ سبھی ریٹائر ہو چکے ہیں۔ جہاں ہیں اللہ انہیں خوش رکھے۔ آمین۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں پارہ سنگل ڈیجٹ میں آگیا
مسائل کا سامنا
ان معاملات کو درست کرنا تھوڑا مشکل تھا کہ پڑی عادتیں چھوڑنا شاید ہماری جبلت میں نہیں۔ ہوسٹل کے کیئر ٹیکر ممتاز گوندل کو بلا کر تمام معلومات حاصل کی گئیں۔ اسے واضح الفاظ میں بتا دیا گیا کہ کسی قسم کا راشن کسی کے بھی گھر نہیں جائے گا، اگر اس سلسلے میں کوئی شکایت ہوئی تو ذمہ دار تم ٹھہرائے جاؤ گے۔ نتیجہ سپلائی رک گئی اور جو لوگ ملوث تھے ان کے دل میں میرے لیے کینہ آ گیا۔ نیت صاف ہو تو اللہ ضرور مدد کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی آئینی ترمیم کے بدلے این آر او حاصل کرنا چاہتے ہیں جو ملنا نہیں،عظمیٰ بخاری
کام کی مشکلات
افسران فارغ رہنے کے عادی ہو گئے تھے۔ ایک آدھ بندہ ہی کام کرتا تھا۔ اکیڈمی میں گروپ بندی تھی۔ جس کا علاج یہ نکالا کہ سب کی ذمہ داری کوئی نہ کوئی اسائنمنٹ لگائی۔ فارغ دماغ سازش کا گڑھ ہوتے ہیں جبکہ مصروف شخص کی سوچ اپنے کام پر مرکوز ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ کے جہاز شمشیر کی امریکی بحریہ کے جہاز فٹزجیرالڈ کے ساتھ شمالی بحر ہند میں مشق
قاری ضیاء الحق کا کردار
میرا یار غار قاری ضیاء الحق ان دنوں سیاسی طور پر زیر عتاب اور او ایس ڈی تھا۔ قاری فیصل آباد کا رہنے والا اور سیاسی طور پر بھی معروف خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ راناثنا اللہ کے سیاسی مخالف ہیں اور وہ ان دنوں وزیر بلدیات تھے اور سیاسی مخالفت کا خمیازہ قاری بھگت رہا تھا۔ یہ بھی اسی ملک کی ریت ہے کہ سیاسی مخالفوں کو ہر طرح سے زچ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: دوسرا ٹیسٹ: پاکستان کا جنوبی افریقا کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
دوستی اور پیشہ ورانہ تعلقات
قاری ایک شاندار انسان ہے۔ سمجھدار اور حق پر ڈٹ جانے والا۔ کھری بات منہ پر ہی کر دیتا تھا۔ محکمہ کی اونچ نیچ خوب سمجھتا تھا اور ہمارے سینئر ساتھیوں کی مخالفت کے باوجود ایک طویل جدوجہد کے بعد اپنا لیا۔ اسی جدوجہد کے نتیجے میں ہماری پہلی پروموشن 25 سال کی طویل مدت کے بعد ممکن ہوئی تھی۔ اس کوشش میں قاری کے علاوہ نجیب اسلم اور راقم بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی اسمبلی تقریر پورے صوبے کی ترجمانی تھی، عوام کا جبری انخلا کروا کر کہتے ہم نے نہیں کیا، اب ہم ان کو بھاگنے نہیں دیں گے،شفیع جان
گھریلو تعلقات
ایک روز قاری کہنے لگا؛ "یار! میں تیرے پاس اکیڈمی نہ آ جاؤں۔" جواب دیا؛ "سو بسم اللہ۔ آ جا۔" اکیڈمی میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی ایک پوسٹ خالی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کا مینول ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کے لئے خصوصی سہولیات کا اعلان
دوستی کے لمحات
وہ دبنگ اور ٹشن خان افسر تھا۔ وہ ہمیشہ خود کو عقل مند اور قابل سمجھتا تھا جس میں وہ کچھ حد تک justified بھی تھا۔ ہماری دوستی فیملیز تک پھیلی تھی۔ وہ خوش پوش، خوش گفتار، دھیمے مزاج کا ملنسار، ایماندار اور ڈسپلن کا پابند تھا۔ اس کے والد فیصل آباد کے نامی وکیل ہیں جبکہ اس کے بہنوئی صاحبزادہ فضل کریم ایک بااثر مذہبی راہنما اور سیاست دان تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے رمضان المبارک کے دوران تھیٹر سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی
کامیابی کے سفر
پنتیس (35) سال کی یہ دوستی اور محبت آج پہلے سے بھی زیادہ پرجوش ہے۔ ایک اور بیج میٹ طاہر ضیاء بھی یہیں ڈپٹی ڈائریکٹر تھا۔ وہ تابعدار، قابل اور خوش پوش تھا۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








