آٹزم سے آگاہی کا عالمی دن

زندگی کے کینوس پر رنگوں کی تنوع

زندگی کے کینوس پر ہر رنگ ایک جیسی چمک نہیں رکھتا، کچھ رنگ گہرے ہوتے ہیں اور کچھ مدھم، لیکن تصویر تبھی مکمل ہوتی ہے جب ہر رنگ کو اس کی صحیح جگہ ملے۔ 'آٹزم' بھی قدرت کے اسی تنوع کا ایک حصہ ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں جسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے، بلکہ یہ دنیا کو دیکھنے، محسوس کرنے اور اس پر ردعمل دینے کا ایک مختلف انداز ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گٹر کا ڈھکن چوری، خریدنے اور بیچنے والوں کو قید کی سزا ہوگی، مریم نواز کا اعلان

آٹزم کے بارے میں آگاہی

’آٹزم‘ دراصل دماغ کے کام کرنے کا ایک الگ طریقہ ہے۔ آٹزم سے متاثرہ افراد دنیا کو، لوگوں کو اور چیزوں کو ایک منفرد نظریے سے محسوس کرتے ہیں۔ ہر سال 2 اپریل کو ’عالمی آٹزم سے آگاہی کا دن‘ منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک رسم نہیں، بلکہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہمارے آس پاس ایسے کئی لوگ موجود ہیں جو دنیا کو تھوڑا الگ طریقے سے سمجھتے ہیں۔ انہیں ہماری ہمدردی کی نہیں، بلکہ سمجھ، قبولیت اور احترام کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بطور خاتون محترمہ فاطمہ جناح کو رول ماڈل سمجھتی ہوں: وزیراعلیٰ مریم نواز

عالمی آٹزم آگاہی دن

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج 2 اپریل 2026 کو یہ دن اس عزم کے ساتھ منایا جا رہا ہے کہ آٹزم سے متاثرہ افراد اور ان کے اہلِ خانہ کے مسائل کو اجاگر کیا جائے۔ یہ دن 2007 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے باضابطہ طور پر منظور کیا گیا تھا تاکہ ان افراد کے حقوق کو تسلیم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی گلو کار ابھیجیت نے مہاتما گاندھی کو پاکستان کے بابائے قوم قرار دے دیا

طبی ماہرین کی رائے

طبی ماہرین اور ڈاکٹروں نے اس حوالے سے ہم سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آٹزم ایک نیورولوجیکل یعنی اعصابی عارضہ ہے جو انسان کے سماجی روابط، بات چیت اور رویے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ماہرین نے مزید کہا کہ آٹزم سے متاثرہ افراد کو دوسروں کے ساتھ گفتگو کرنے، جذبات کے اظہار اور بدلتے ہوئے حالات کو سمجھنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ ڈاکٹروں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آٹزم کی شرح میں عالمی سطح پر اضافہ ہو رہا ہے اور یہ کسی بھی نسل یا سماجی حیثیت کے حامل فرد کو متاثر کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: رمضان میں مختلف راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے: علیزہ شاہ

پاکستان میں ترقی

پاکستان میں اس حوالے سے حکومتی سطح پر بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ پنجاب میں آٹزم کے شکار بچوں کے لیے پہلے سٹیٹ آف دی آرٹ اسکول کا قیام ایک انقلابی قدم ہے، جہاں ماہرینِ نفسیات اور خصوصی اساتذہ ان بچوں کی تربیت کے لیے جدید طریقہ کار استعمال کر رہے ہیں۔ ایسے اداروں کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ اب ریاست بھی ان بچوں کی منفرد صلاحیتوں کو تسلیم کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں کمی

نیلا رنگ اور تبدیلی

نیلا رنگ آٹزم کی علامت ہے، اور آج دنیا بھر کی مشہور عمارتیں نیلی روشنیوں سے نہائی ہوئی ہیں تاکہ توجہ مبذول کرائی جا سکے۔ لیکن اصل ضرورت رویوں کی تبدیلی کی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آٹزم کوئی "خامی" نہیں بلکہ "نیورو ڈائیورسٹی" ہے۔ جیسے ہر انسان کا مزاج مختلف ہوتا ہے، ویسے ہی ان کے سوچنے کا انداز جدا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جنگ کو روکنا چاہیے، اس سے قبل کہ یہ مزید بڑھے :ترک صدر رجب طیب اردوان

تیزی سے ترقی کی ضرورت

آخر میں، ہمیں تین اصولوں کو اپنانا ہوگا: بیداری، قبولیت اور احترام۔ ہمیں انہیں بدلنے کی کوشش کرنے کے بجائے، انہیں ویسے ہی قبول کرنا چاہیے جیسے وہ ہیں۔ ہر انسان کی طرح آٹزم سے متاثرہ افراد کو بھی برابری کا حق حاصل ہے، خواہ وہ اسکول ہو یا نوکری۔ آئیں عہد کریں کہ ہم ان کی خاموشی کو اپنی سماعتیں دیں گے اور ان کے خوابوں کو اپنی ہمت، تاکہ وہ بھی معاشرے کا ایک متحرک حصہ بن سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں کورونا سے 4 اموات کی خبروں پر محکمہ صحت سندھ کی وضاحت آ گئی

نوٹ

یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

لکھنے کے لیے معلومات

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

Categories: بلاگ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...