پاکستان اور ناروے کے درمیان کاربن مارکیٹ کا پہلا تاریخی معاہدہ طے پاگیا، پاکستان کے لیے بین الاقوامی کاربن مارکیٹس، کلائمیٹ فنانس اور کم کاربن والے شعبوں میں سرمایہ کاری کے دروازے کھل گئے
پاکستان اور ناروے کے درمیان تاریخی معاہدہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور ناروے نے بدھ کے روز پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6.2 کے تحت ملک کے پہلے دو طرفہ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کے لیے بین الاقوامی کاربن مارکیٹس، کلائمیٹ فنانس، اور کم کاربن والے شعبوں میں سرمایہ کاری کے دروازے باقاعدہ طور پر کھل گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی گیٹ واقعہ، مزید 2 ملزمان گرفتار، تعداد 5 ہوگئی
معاہدے کی تفصیلات
اسلام آباد میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی کے تحت ہونے والے اس معاہدے (MoU) پر دستخط کے بعد، پاکستان کاربن ٹریڈنگ کے طریقہ کار میں شامل ہو گیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مصدق ملک نے اسے ایک سنگ میل قرار دیا، کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کو کاربن مارکیٹ کی تیاری سے نکال کر عملی نفاذ کی طرف لے جائے گا۔ معاہدے کے تحت پاکستان صاف توانائی، زراعت، ٹرانسپورٹ، اور ویسٹ مینجمنٹ جیسے شعبوں میں ایسے منصوبے شروع کرے گا جو 'کاربن کریڈٹس' پیدا کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا اشک آباد ترکمانستان کا دورہ
ناروے کے ساتھ تعاون
ان منصوبوں سے ہونے والی اخراج میں کمی کو 'انٹرنیشنلی ٹرانسفرڈ مٹیگیشن آؤٹ کمز' (ITMOs) کے فریم ورک کے تحت ناروے کو منتقل کیا جا سکے گا۔ حکام کے مطابق، یہ انتظام پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ حاصل کرنے میں مدد دے گا، خصوصاً جب ملک سیلاب، ہیٹ ویوز، اور دیگر شدید موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے غلط اندازہ لگایا، ہماری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے: شازیہ مری
ناروے کا کلائمیٹ نیوٹرل ہدف
پاکستان میں ناروے کے سفیر پر البرٹ الساس نے کہا کہ ناروے 2030 تک 'کلائمیٹ نیوٹرل' بننے کا ہدف رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ناروے یہ کاربن کریڈٹس اپنے لازمی اہداف پورا کرنے کے لیے نہیں بلکہ ان سے آگے بڑھنے کے لیے خرید رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پولیس کے جوان شہریوں کے تحفظ کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں: حنا پرویز بٹ
نیا سرمایہ کاری پروگرام
ناروے کے سفیر نے بتایا کہ ان کے ملک نے 2024 میں 1.5 بلین ڈالر کے بجٹ سے 'گلوبل ایمیشن ریڈکشن انیشیٹیو' (NOGER) شروع کیا ہے، جس کے ذریعے پاکستان جیسے ممالک کو کلائمیٹ فنانس فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے پاکستان کو ونڈ اور سولر انرجی سمیت بڑے پیمانے کے منصوبے پیش کرنے کی دعوت دی۔
کاربن ٹریڈنگ کی قومی پالیسی
وفاقی وزیر مصدق ملک نے مزید کہا کہ پاکستان نے جنوری 2025 میں کاربن ٹریڈنگ کی قومی پالیسی منظور کی تھی۔ اب ہم ریگولیٹری سسٹمز اور رپورٹنگ فریم ورک قائم کرنے پر کام کر رہے ہیں تاکہ اس مارکیٹ کو مکمل طور پر فعال کیا جا سکے۔








