حکومت کا توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا اصولی فیصلہ
مارکیٹوں کی بندش کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میرا بھائی بھی کرپشن میں ملوث ہو تو اُسے سزا ملنی چاہیے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی
اجلاس میں موجودہ صورتحال کا جائزہ
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث پیدا ہنگامی حالات میں توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے کفایت شعاری اقدامات کو بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ کاروباری مراکز، مارکیٹیں اور بازار رات آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو اعتماد میں لے کر کیا گیا اور اس کا اعلان بھی صوبے خود کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا “سارک” سکیم کے ویزے رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کاالٹی میٹم ، سیما حیدر کا مستقبل کیا ہوگا؟ جانیے
وزیراعظم کا خطاب
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت خطے کی صورتحال اور پٹرول بحران پر اجلاس ہوا جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان کے وزرا اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شرکت کی۔
اس موقع پر کفایت شعاری اور توانائی بچت اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ اسحاق ڈار نے دورہ چین پر بریفنگ دی اور ایران امریکہ مذاکرات پر ثالثی کوششوں سے آگاہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا حکومتی تجاویز میں سے ایک پر اتفاق، ویڈیو میسج ریکارڈ کروایا
معاشی مشکلات اور قومی یکجہتی
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب میں خطے میں جنگ کے باعث معاشی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے قومی یکجہتی، اتحاد و اتفاق، سیاسی استحکام اور مل کر چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اب اشرافیہ کو قربانی دینا ہو گی، وفاق اور صوبے کم اہم منصوبوں کو روکیں تاکہ عام آدمی کا تحفظ کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز نے حافظ آباد میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی
توانائی کی بچت کے اقدامات
کفایت شعاری کرکے فنڈز جمع کرنا ہوں گے، زرعی شعبے، پبلک و گڈز ٹرانسپورٹ کو بچانا ہو گا تاکہ عام آدمی مہنگائی سے کم سے کم متاثر ہو۔ پاکستان جنگ بندی کے لیے حتی المقدور کوشش کر رہا ہے، اللہ کے فضل و کرم سے اس میں کامیابی حاصل ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: 13 سالہ لڑکی کا مہینوں تک ریپ کرنے والے 4 نوجوان لڑکوں سمیت 8 افراد گرفتار
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے کا اضافہ محنتی کسانوں، مزدوروں اور دکانداروں کے لیے بے پناہ معاشی بوجھ تھا لیکن انہوں نے اس کو برداشت کیا۔ اجتماعی اور بھرپور کوششوں سے ہم نے بروقت صورتحال کا ادراک کیا اور اقدامات اٹھائے۔
یہ بھی پڑھیں: کووِڈ کی واپسی، بھارت میں فعال کیسز کی تعداد 4 ہزار سے تجاوز کرگئی
حکومت کی مالی چالاکی
صدرآصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے بھی شکرگزار ہیں۔ وفاقی حکومت نے تین ہفتوں میں 129 ارب روپے کا بوجھ اٹھایا۔ پی ایس ڈی پی میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی اور تمام اخراجات وفاق نے برداشت کیے ہیں۔
مل کر عمل کرنے کا وقت
وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر تعاون کریں، کفایت شعاری مہم میں صدر مملکت، بلاول بھٹو زرداری، وزرائے اعلیٰ اور ارکان پارلیمنٹ کے کردار کو سراہتے ہیں۔








