تیری چھاؤں روٹھی ہے تو ہر خوشی بھی روٹھی ہے۔۔۔
یادیں اور درد
چھوڑا ہے جب سے شہر ترا اور مکان ، ماں
لکھتی رہی ہوں درد کی میں داستان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری کمی کا امکان
خوشیوں کی کمی
روٹھی ہے تیری چھاؤں تو روٹھی ہے ہر خوشی
سر پر مرے نہیں ہے کوئی سائبان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: جب حارث رؤف نے آسٹریلیا کو پاکستان جیسا بنا دیا
زندگی کے کانٹے
میرے وجود میں ہیں جو کانٹے اُگے ہوئے
بوتا رہا ہے خار سدا باغبان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کسی اور کیس میں گرفتار نہیں تو جیل سے رہا کردیا جائے،لانگ مارچ توڑپھوڑ کیس میں بریت کا تحریری فیصلہ جاری
منزل کی تلاش
کانٹے چھُبے ہیں پاؤں میں اور تھک گئی ہوں میں
منزل کا پھر بھی کوئی نہیں ہے نشان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن (ایلیمنٹری ایجوکیشن) پنجاب شاہدہ سہیل کا میانوالی کے تعلیمی اداروں کا دورہ، صورتحال کا جائزہ لیا
ماں کی جدائی
تجھ سے بچھڑ کے پھر مجھے فرحت نہیں ملی
خوشیوں سے گو کہ پر ہے یہ سارا جہان ماں
نظم
کلام :ڈاکٹر فرزانہ فرحت ( لندن)








