تیری چھاؤں روٹھی ہے تو ہر خوشی بھی روٹھی ہے۔۔۔
یادیں اور درد
چھوڑا ہے جب سے شہر ترا اور مکان ، ماں
لکھتی رہی ہوں درد کی میں داستان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت آصف زرداری کی چینی حکام سے ملاقاتیں، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو
خوشیوں کی کمی
روٹھی ہے تیری چھاؤں تو روٹھی ہے ہر خوشی
سر پر مرے نہیں ہے کوئی سائبان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: جو کام 55 سال تک نہیں کر سکا اب کیسے کروں،”خاندانی لوگوں کا یہی المیہ ہے”،خود جلنے کو تیار نہیں دوسروں کو پگھلانے میں لگے ہیں
زندگی کے کانٹے
میرے وجود میں ہیں جو کانٹے اُگے ہوئے
بوتا رہا ہے خار سدا باغبان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار سے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار کی ملاقات
منزل کی تلاش
کانٹے چھُبے ہیں پاؤں میں اور تھک گئی ہوں میں
منزل کا پھر بھی کوئی نہیں ہے نشان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور اسرائیلی کے اصفہان میں فضائی حملے، 11افراد جاں بحق، درجنوں زخمی
ماں کی جدائی
تجھ سے بچھڑ کے پھر مجھے فرحت نہیں ملی
خوشیوں سے گو کہ پر ہے یہ سارا جہان ماں
نظم
کلام :ڈاکٹر فرزانہ فرحت ( لندن)








