تیری چھاؤں روٹھی ہے تو ہر خوشی بھی روٹھی ہے۔۔۔
یادیں اور درد
چھوڑا ہے جب سے شہر ترا اور مکان ، ماں
لکھتی رہی ہوں درد کی میں داستان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: اے پی ایس بوائز لاہور میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے لٹریچر فیسٹیول کا انعقاد
خوشیوں کی کمی
روٹھی ہے تیری چھاؤں تو روٹھی ہے ہر خوشی
سر پر مرے نہیں ہے کوئی سائبان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: بجلی صارفین کے لیے مزید آسانی پیدا کرنے کا فیصلہ
زندگی کے کانٹے
میرے وجود میں ہیں جو کانٹے اُگے ہوئے
بوتا رہا ہے خار سدا باغبان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: روس نے یوکرین سے عارضی جنگ بندی کا اعلان کر دیا
منزل کی تلاش
کانٹے چھُبے ہیں پاؤں میں اور تھک گئی ہوں میں
منزل کا پھر بھی کوئی نہیں ہے نشان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ کو قانون کے مطابق جیل میں تمام سہولیات دستیاب ہیں، ترجمان جیل خانہ جات
ماں کی جدائی
تجھ سے بچھڑ کے پھر مجھے فرحت نہیں ملی
خوشیوں سے گو کہ پر ہے یہ سارا جہان ماں
نظم
کلام :ڈاکٹر فرزانہ فرحت ( لندن)








