پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا نے بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی
پی ڈی ایم اے کی بارشوں کے نقصانات کی رپورٹ
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے) خیبر پختونخوا نے 25 مارچ سے اب تک ہونے والی بارشوں کے باعث صوبہ کے مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کردی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: ٹرین کی زد میں آ کر 11 سالہ بچہ جاں بحق
انسانی نقصانات کی تفصیلات
رپورٹ کے مطابق صوبہ میں ہونے والی بارشوں کے باعث گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے اب تک 30 افراد جاں بحق جبکہ 85 افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں 20 بچے، 5 مرد اور 5 خواتین شامل ہیں۔ زخمیوں میں 36 مرد، 11 خواتین اور 38 بچے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سوتیلی بیٹی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے اور بلیک میل کرنے والا باپ گرفتار
مالی نقصانات کا اندازہ
بارشوں کے باعث اب تک کی مجموعی طور پر 140 گھروں کو نقصان پہنچا۔ جن میں 115 گھروں کو جزوی نقصان جبکہ 25 گھر مکمل طور پر منہدم ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو تجارتی سرپلس والا ملک بنانے کے لیے اقتصادی تعاون کے منصوبے پر سعودی ولی عہد کے دورۂ پاکستان کے دوران دستخط متوقع ہیں، سعودی عرب میں پاکستانی سفیر احمد فاروق
متاثرہ اضلاع کی فہرست
یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع بنوں، ایبٹ آباد، کوہاٹ، پشاور، نوشہرہ، باجوڑ، لکی مروت، کرم، ہنہگو، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ، دیر اپر، باجوڑ، بٹگرام، اور شمالی وزیرستان و ٹانک میں پیش آئے۔
یہ بھی پڑھیں: سیہون: ڈکیتی مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان جاں بحق
امدادی سرگرمیاں اور عوام کی سلامتی
پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے آپس میں رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوجرخان میں نامعلوم شخص کی لاش کا معمہ حل
عوامی احتیاط کی اہمیت
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ بلا وجہ سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں، جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ایمرجنسی آپریشن سنٹر کی صورتحال
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگاہی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔







