ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب حملے سے تباہ کن تابکاری سانحے کا خدشہ ہے، آئی اے ای اے کی شدید تشویش
نیویارک رپورٹ
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے تازہ سیٹلائٹ تصاویر اور مقام سے متعلق تفصیلی معلومات کے آزادانہ تجزیے کے بعد تصدیق کی ہے کہ ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ (BNPP) کے قریب حالیہ فوجی حملوں کے اثرات دیکھے گئے ہیں، جن میں ایک حملہ پلانٹ کی حدود سے صرف 75 میٹر کے فاصلے پر ہوا۔ 5 اپریل کی تصاویر کے مطابق خود پلانٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن سندور کتنی دیر جاری رہا اور اہداف دراصل کیا تھے؟ بھارت کا موقف آگیا۔
خطرات کی نشاندہی
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل راجیل گروسی نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ بوشہر پلانٹ کے قریب جاری فوجی سرگرمیاں جو ایک فعال نیوکلیئر تنصیب ہے اور جس میں بڑی مقدار میں جوہری ایندھن موجود ہے، کسی شدید تابکاری حادثے کا سبب بن سکتی ہیں، جس کے اثرات ایران سمیت پورے خطے کے عوام اور ماحول پر پڑ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شان مسعود کو قومی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سے ہٹائے جانے کا امکان، ممکنہ متبادل نام بھی سامنے آگیا
حملوں کی خطرناکی
ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ہدف کچھ بھی ہو، اس نوعیت کے حملے نیوکلیئر تحفظ کے لیے حقیقی خطرہ ہیں اور انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تنازع کے دوران نیوکلیئر تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مقرر کردہ سات بنیادی اصولوں کا مکمل احترام کریں۔ کسی بھی نیوکلیئر تنصیب اور اس کے گرد و نواح کو نشانہ بنانا ہرگز قابل قبول نہیں ہے اور اس سے گریز کیا جانا چاہیے۔
آئی اے ای اے کا بیان
Based on its independent analysis of new satellite imagery and detailed knowledge of the site, the IAEA can confirm recent impacts of military strikes close to Iran’s Bushehr Nuclear Power Plant (BNPP), including one just 75 metres from the site perimeter. The BNPP itself has not… pic.twitter.com/zWpp3IaFLW
— IAEA - International Atomic Energy Agency ⚛️ (@iaeaorg) April 6, 2026








