ٹرمپ نے ایران جنگ کے مخالف امریکیوں کو بیوقوف قرار دے دیا
ٹرمپ کے سخت بیانات
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے حوالے سے سخت بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو امریکی اس جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں وہ “بیوقوف” ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کے اندازے غلط، پاکستان کو واضح برتری ملی: جنوبی ایشیا کی تاریخی تبدیلی رپورٹ کا اجرا
جنگ کا مقصد
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اس جنگ کا مقصد صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی بنیادی وجہ ہے جس کی بنیاد پر یہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں، اور اس کی مخالفت کرنے والے صورتحال کی سنگینی کو نہیں سمجھ رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی فلم ”گھوسٹ سکول” ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول 2025 میں نمائش کے لیے منتخب
پیش آنے والی کارروائیاں
ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کو “تباہ” کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ سب کرنا نہیں چاہتے، لیکن اس کے باوجود ایران کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ ایران کے پل، بجلی گھر اور دیگر اہم تنصیبات کو ختم کر دیا جائے گا، اور اس سے بھی زیادہ سخت اقدامات زیر غور ہیں، تاہم انہوں نے مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق شہری انفراسٹرکچر پر حملے کو جنگی جرم تصور کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہنگو میں شہید ہونیوالے پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی نماز جنازہ ، کور کمانڈر پشاور سمیت اعلیٰ عسکری و سول حکام کی شرکت
ایرانی تیل کے ذخائر
ٹرمپ نے ایران کے تیل کے ذخائر پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے اختیار میں ہوتا تو وہ ایران کا تیل اپنے قبضے میں لے لیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس موجود یہ وسائل امریکہ کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں اور اس سے مالی طور پر بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ ایرانی عوام کا خیال بھی بہتر انداز میں رکھتے۔
مظاہرین کی مدد اور اسلحہ
اسی دوران ٹرمپ نے ایک اور متنازع دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین کی مدد کے لیے اسلحہ بھیجا تھا۔ ان کے مطابق یہ اسلحہ عوام تک پہنچنا تھا تاکہ وہ حکومت کے خلاف مزاحمت کر سکیں، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ ٹرمپ نے کہا کہ جن لوگوں کو یہ اسلحہ دیا گیا انہوں نے اسے اپنے پاس رکھ لیا، جس پر وہ شدید ناراض ہیں اور اس معاملے میں ملوث افراد کو “بڑی قیمت” ادا کرنا پڑے گی۔ تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ وہ کس گروہ کی بات کر رہے ہیں۔








