1. 4 مرلہ زمین کے لیے باپ کو قتل کرنے والے بیٹے کی صلح کی بنیاد پر رہائی کے کیس میں سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس سامنے آگئے۔
پیارے والد کی قتل کا کیس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے چار مرلہ زمین کیلئے باپ کو قتل کرنے والے بیٹے کی صلح کی بنیاد پر رہائی کے کیس کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا پاکستان کے ارشد ندیم کیساتھ دیرینہ تعلقات سے مکر گئے۔
سماعت کے دوران بیویوں کے قتل کا ذکر
دوران سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ایک صوبے میں عدالت کی کاز لسٹ میں 11 کیسز میں سے 10 کیس بیوی کو قتل کرنے کے تھے، دو مردوں کی لڑائی میں بیویوں کو قتل کر دیا گیا، کوئی مسئلہ تو علیحدگی اختیار کرلو، بیوی کو قتل کرنے دینے کا کیا جواز ہے؟
یہ بھی پڑھیں: شاباش…… بوائز، ٹیم گرین ویلڈن،پوری قوم تاریخی فتح پر خوش ہے:مریم نواز
وکیل کا مؤقف
مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کیس فساد فی الارض میں نہیں آتا، ملزم کے دماغ کی خرابی کا پہلو بھی ہوسکتا ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اگر دماغی خرابی تھی تو ملزم خود کو گولی مار لیتا یا چھت سے چھلانگ لگا لیتا، باپ کو گولی مارنا ذہنی بیماری کیسے ہو سکتی ہے؟
یہ بھی پڑھیں: آزادی مارچ کیس، اسلام آباد کی عدالت نے عمران اسماعیل اور عامر کیانی کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیئے
ملزم کی رہائی پر سوالات
انہوں نے سوال کیا کہ والد کو مارنے کے بعد ملزم کو بریت کا سرٹیفکیٹ کیوں چاہیے اور اس کا مستقبل کیا ہے؟ کیا اس نے کوئی امتحان دینا ہے یا سیاست میں آنا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: کراچی، گلستان جوہر میں گھر کے باہر کھڑی گاڑی کا 25 ہزار کا مبینہ ای چالان موصول ہوگیا
قید کا دورانیہ
مجرم کے وکیل نے کہا کہ عدالت اس پہلو کو بھی مدنظر رکھے میرا موکل 2015 سے جیل میں قید ہے، جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ 11 سال سے زائد قید کاٹنے پر آپکے موکل کو الزام سے بری کردیا جائے؟
فیصلے کے اثرات
جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید کہا کہ اس کیس کے فیصلے کا پورے ملک پر اثر پڑے گا۔ ایک قتل پر ملزم 15 سال سزا کاٹ کر باہر آ جاتا ہے جبکہ دس قتل کرنے والا بھی 15 سال بعد رہا ہو جاتا ہے جو ایسے ہے جیسے قتل کا لائسنس دے دیا جائے۔








