سوشل میڈیا کے ’’استرے‘‘ سے ملک کا برا حال کر دیا گیا، جھوٹ پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے: عظمیٰ بخاری
وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب کا بیان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب میں ایسا کوئی اخبار نہیں چلے گا جو اپنے ورکرز کو تنخواہ نہیں دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شہزاد اکبر پر حملے کی تحقیقات اسکاٹ لینڈ یارڈ کے کاونٹر ٹیرر ازم یونٹ نے سھنبال لی ، ذرائع کا دعویٰ
میڈیا ہاؤسز کا آڈٹ
انہوں نے اعلان کیا کہ میڈیا ہاؤسز کا آڈٹ کروایا جائے گا تاکہ معلوم ہو سکے کہ کس ادارے کے ذمہ ورکرز کے کتنے واجبات ہیں، جبکہ اے بی سی اخبارات اور انہیں ملنے والے اشتہارات کی تفصیلات بھی پبلک کی جائیں گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور پریس کلب میں ’’"میڈیا لاز، ریگیولیشنز اور ایتھیکس‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز راشن کارڈ اسکیم کا آغاز، مائنز ورکرز ہر ماہ کتنے ہزار روپے کا راشن حاصل کر سکیں گے؟ جانیے
صحافیوں کی بحالی کی کوششیں
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ میں خود کو میڈیا کا حصہ سمجھتی ہوں اور اسی تعلق کی بنیاد پر مجھے محکمہ تعلقات عامہ کی ذمہ داری دی گئی۔ ہماری حکومت میڈیا ہاؤسز سے نکالے گئے صحافیوں کی بحالی اور واجبات کی ادائیگی کے لیے کوشاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے فائنل میں بدلہ لینا ہے اور انہیں چھوڑنا نہیں ہے، کرکٹ فین کا حارث روف سے مطالبہ
تنخواہوں کی ادائیگی میں پیش رفت
انہوں نے بتایا کہ رمضان کے آخری عشرے میں صحافیوں کو تنخواہیں دلوانے کے لیے انہوں نے ذاتی طور پر کوششیں کیں اور اب پنجاب میں صحافتی اداروں کے واجبات فوری کلیئر کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب میں متعدد ڈمی اخبارات کو بند کیا گیا ہے جبکہ ریجنل اخبارات کو بھی اشتہارات دیئے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ جانے والے نجی کمپنی کے 11 ملازمین اغواء، پولیس نے 6 بازیاب کرا لیے
سوشل میڈیا کی تشویشناک صورتحال
انہوں نے سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’سوشل میڈیا کے استرے ‘‘سے ملک کا برا حال کر دیا گیا ہے۔ کسی بھی ملک میں افواہ اور جھوٹ پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے سائبر ونگ کے قیام کی ہدایت دی ہے تاکہ بدتمیزی اور فیک نیوز کے کلچر کو روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: آپ کا اصلی وجود، دوسروں کی آراء اور نظریات کا مرہون منت ہے لیکن یہ بھی ضروری اور سچ نہیں کہ آپ ان آراء اور نظریات کو زندگی بھر اپنائے رکھیں
پیكا قوانین کا ذکر
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پیكا (PECA) قوانین کے حوالے سے کہا کہ اگر کہیں اس کا غلط استعمال ہو تو حکومت فوری مداخلت کر کے کیس ختم کرواتی ہے، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ترقیاتی کاموں کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ مسائل کا حل نہیں، ہمیں مل بیٹھ کر لائن مقرر کرنی ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اگر کوئی ہنگامی صورتحال یا سیلاب نہ آیا تو ترقیاتی کاموں کے ثمرات عوام تک پہنچتے رہیں گے۔








