وزیر خزانہ پنجاب کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی مانیٹرنگ کمیٹی کا اہم اجلاس
اجلاس کا افتتاح
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی مانیٹرنگ کمیٹی کا تیسرا اجلاس آج محکمہ خزانہ کے کمیٹی روم میں ہوا۔ اس اجلاس میں صوبائی وزیر برائے تعمیرات و مواصلات صہیب احمد بھرت، صوبائی وزیر برائے آبپاشی محمد کاظم پیرزادہ، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری سروسز، سیکرٹری پی اینڈ ڈی، سیکرٹری ایج، سیکرٹری انڈسٹریز، سیکرٹری سکول ایجوکیشن اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن سمیت مختلف محکموں کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے عمرہ ویزا کی مدت کار 3 ماہ سے کم کر کے ایک ماہ کر دی
کفایت شعاری اقدامات پر پیش رفت
سیکرٹری آئی اینڈ سی نے اجلاس کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے خطے کی معاشی صورتحال کے پیش نظر حکومت پنجاب کے کفایت شعاری اقدامات پر پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تمام سرکاری محکموں میں کفایت شعاری مہم کے تحت حکومت پنجاب کے اب تک کے احکامات کی پابندی کی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں 6 اپریل کو مارکیٹوں، ہوٹلوں اور شادی ہالز کے اوقات کار میں کمی کے حوالے سے ایک مزید نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا، جس پر عمل درآمد کے لیے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو متحرک کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ اپنی مذاکراتی ٹیم اسلام آباد بھیج رہے ہیں جس میں نائب صدر جے ڈی وینس بھی شامل ہوں گے، ترجمان وائٹ ہاؤس
تعلیمی محکمہ میں کفایت شعاری اقدامات
سیکرٹری سکول ایجوکیشن اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن نے کمیٹی کو محکمہ ایجوکیشن میں کفایت شعاری اقدامات اور طلباء و طالبات کے لیے ٹرانسپورٹیشن کی دستیاب سہولیات کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جن میں طلباء کی تعداد اور بسوں کی تعداد شامل تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تعلقات معمول پر لانے کے لیے پُرعزم ہے بشرطیکہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، ظہور بلیدی
کمیٹی کی ہدایات
کمیٹی کے اراکین نے سرکاری محکموں میں کفایت شعاری اقدامات پر پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹریز سکول اور ہائر ایجوکیشن کو ہدایت کی کہ مستقبل میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں طلباء کی آمد و رفت کے لیے الیکٹرک بسوں کی خریداری کو ترجیح دی جائے۔
ماحولیاتی اثرات
وزیر خزانہ نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کی آمد و رفت کے لیے الیکٹرک وہیکلز کی خریداری فیول کے استعمال میں کمی اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے لیے بھی سود مند ثابت ہو گی۔








