جنگل کا قانون کسی کے مفاد میں نہیں، پاکستان کی ثالثی پر بھارت کو خوشی منانی چاہیے : ششی تھرور
ششی تھرور کی تبدیلی کی باتیں
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر بھارتی سیاستدان اور کانگریس کے رہنما ششی تھرور نے کہا ہے کہ "جنگل کا قانون" کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ پاکستان کی اس ثالثی پر بھارت کو خوشی منانی چاہیے جس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی۔ بھارتی حکومت بھی امن کا خواہاں ہے اور دنیا میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں، اس لیے بھارت کو محض تماشائی بن کر نہیں بیٹھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کی ڈیل اسی بات پر فائنل ہوئی کہ صدر مملکت کا عہدہ چھوڑنے کے بعد آصف زرداری کے خلاف کوئی پرانا یا نیا کیس نہیں بنایا جا سکے گا ،صحافی قمبرزیدی
پاکستان کے کردار کی اہمیت
جیو نیوز کے مطابق، ایک انٹرویو میں ششی تھرور کا کہنا تھا کہ جب پاکستان وہ کام کر رہا ہے جو ہمارے مطلوبہ امن کے لیے ہے، تو ہمیں اس کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔ بھارتی حکومت نے بھی امن کا خیرمقدم کیا جو ایک درست اور سمجھدار رویہ ہے۔ امریکہ اور ایران میں جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہونے لگا، قیمتوں میں واضح کمی ریکارڈ
خطے کے اثرات
پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے، اس لیے کسی بھی علاقائی جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑسکتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کا اس تنازع کو ختم کرنے میں دلچسپی لینا فطری ہے۔
بھارت کی ذمہ داری
ششی تھرور کا مزید کہنا تھا کہ دنیا میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں اور بھارت کو محض تماشائی بن کر نہیں بیٹھنا چاہیے۔ "جنگل کا قانون" کسی کے مفاد میں نہیں کیونکہ اس سے تمام ممالک طاقتور قوتوں کے رحم و کرم پر آسکتے ہیں۔








