کئی بار خودکشی کی کوشش کی، انصاف کی منتظر ثنا یوسف کی والدہ رو پڑیں۔
ماں کا درد
اسلام آباد (ویب ڈیسک) گزشتہ سال جون میں قتل ہونے والی ٹک ٹاکر ثنا یوسف کی والدہ نے کہا ہے کہ بیٹی کے قتل کو ایک سال گزرنے کے باوجود ہم اب تک انتظار کے منتظر ہیں اور میں نے اس دوران کئی بار خودکشی کی کوشش بھی کی۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا امریکہ میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عہد، دونوں ملکوں کے درمیان تاریخ کی سب سے بڑی دفاعی ڈیل طے پاگئی، مالیت جان کر ہوش اڑجائیں
ثنا یوسف کا افسوسناک قتل
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد میں 17 سالہ انفلوئنسر ثناء یوسف کے افسوسناک قتل کو تقریباً ایک سال گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندان اب بھی انصاف کا منتظر ہے۔
ثناء یوسف کو جون 2025 میں ان کے گھر کے اندر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا اور یہ واقعہ ملک بھر میں غم و غصے کا باعث بنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چیمپئینز ٹرافی کا حتمی فیصلہ کب ہوگا، نئی تاریخ سامنے آگئی
ماں کا صبر
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی والدہ نے اپنے غم کی شدت بیان کی اور بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے اپنی زندگی ختم کرنے کا سوچا، مگر اپنی بیٹی کی یاد نے انہیں حوصلہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی پر قطر کا بیان بھی سامنے آ گیا
انصاف کی طلب
ان کا کہنا تھا کہ میں روز مرتی ہوں اور روز جیتی ہوں، کئی بار خودکشی کرنے کی بھی کوشش کی، میں نے بیٹی کے بغیر نہیں رہنا لیکن پھر سوچتی ہوں کہ نہیں بیٹی کو انصاف دلانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بیٹی کو انصاف اس لیے بھی دلانا ہے تاکہ باقی بچیاں خود کو محفوظ محسوس کرسکیں اور یہ کہہ سکیں کہ ہمارے ساتھ کوئی ایسا نہیں کرے گا کیوں کہ ثنا کے ساتھ انصاف ہوا تھا تو ہمارے ساتھ بھی ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ہارنے کے خوف سے اسلام آباد بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنا جمہوریت کی روح کے منافی اور افسوسناک عمل ہے، سراج الحق
مجرم کی سزا
ثنا یوسف کی والدہ نے کہا کہ میری ایک ہی بیٹی تھی اور وہ بہت بہادر تھی اور میں ہر جگہ اس کے ساتھ ہوتی تھی جب کہ میری بیٹی کے قتل کو ایک سال مکمل ہونے والا ہے لیکن اب تک مجھے انصاف نہیں ملا، میں صرف اتنا چاہتی ہوں کہ مجھے انصاف مل جائے اور مجرم کو کڑی سے کڑی سزا مل جائے۔
قتل کی وجہ
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری بیٹی کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے انکار کردیا تھا جو ملزم سے برداشت نہیں ہوا اور اس نے میری بیٹی کو میری آنکھوں کے سامنے قتل کردیا۔
انہوں نے بتایا کہ عدالتوں کا رویہ میرے ساتھ بہت اچھا ہے لیکن ملزم کی جانب سے ہائی کورٹ میں کوئی درخواست دی گئی ہے جس کی وجہ سے اتنا وقت گزر گیا۔








