پُل کے نیچے سے دریائے ٹیمز بہہ رہا ہے، سیاحوں کا جم غفیر تھا، پل پار کر کے لائن میں لگ کر ٹکٹ لیے اور “London Eye” میں سوار ہوئے۔
سیر و سیاحت کی شروعات
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 114
19 ستمبر 2004ء
جب سیر سپاٹے کا وقت آیا تو محمد یعقوب کی بیٹی رفعت شاہین نے "London Eye" دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ فوراً تیاری کر کے ہم گھر سے کار میں سوار ہوئے اور Ilford اسٹیشن کی جانب روانہ ہوئے۔ وہاں گاڑی پارک کرنے کے بعد ٹکٹ لے کر ٹرین میں سوار ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت ہاٹ لائن کھلی ہوئی ہے، امید ہے سیز فائر برقرار رہے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر
ویسٹ منسٹر کی سیر
ویسٹ منسٹر ریلوے اسٹیشن پر پہنچ کر ہم نے پیدل چل کر ویسٹ منسٹر پل کی طرف روانہ ہوئے۔ پل کے نیچے دریائے ٹیمز بہہ رہا تھا اور وہاں سیاّحوں کا ایک بڑا مجمع موجود تھا۔ پل پار کر کے ٹکٹ حاصل کر کے ہم "London Eye" میں سوار ہوئے، جہاں ایک وقت میں بیس سے پچیس افراد سوار ہو سکتے ہیں اور مختلف مشہور مقامات کا منظر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جیل میں ملاقات ملکی اداروں کے خلاف سازشوں کے لیے نہیں، قانونی امور پر مشاورت کے لیے ہوتی ہے، عطا تارڑ
تفریحی تجربات
اس تفریح گاہ سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہم نے پڑوسی مارکیٹ کے ریسٹورنٹ میں جوس، برگر، چپس اور چائے کا مزہ لیا۔ موسم خنک تھا اور درجہ حرارت 17 سینٹی گریڈ تھا۔
میزبان محمد یعقوب نے بتایا کہ لندن میں گورے اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ 'تھری ڈبلیو' کا کوئی اعتبار نہیں، یعنی ویجز کسی بھی وقت ختم ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں ماں بیٹی اور بہو کی لاشیں ملنے کا معمہ حل ہو گیا
دریائے ٹیمز کی سیر
ویسٹ منسٹر عبور کرنے کے بعد ہم نے دریائے ٹیمز کی سیر کے لیے دو منزلہ فیری کا ٹکٹ لیا۔ ایک شخص نے لاؤڈ سپیکر پر عمارتوں اور پلوں کی تفصیل بیان کی۔ آگے لندن ٹاور پر سب سیاح اُتر گئے اور اُس کی سیر کے پلان بنائے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی بینک نے پاکستان سمیت علاقائی معاشی صورتحال پر رپورٹ جاری کردی
خوشی محمد کی آمد
ہم نے گھر واپس آ کر شام کو خوشی محمد کے ساتھ وقت گزارا، جو اپنے دو بیٹوں، دو بہوؤں، اور ایک چھوٹی بچّی کے ساتھ آئے۔ دو گھنٹے کی گپ شپ کے بعد ہم نے اگلے دن کی منصوبہ بندی کی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل کا حصہ بننا شاندار تجربہ ہے: ڈیون کونوے
کئی مزید سیر و تفریح
20 ستمبر کو "Country Side of Essex" کی سیر کی۔ 22 ستمبر کو بھائی یعقوب کے بھانجے اسرار چوہدری اور اُن کی بیگم رانی نے ہمیں شام کے کھانے پر مدعو کیا۔ وہ جانے کے بعد ہم نے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے میچ کا لطف لیا۔
23 ستمبر کو بھائی یعقوب کے بیٹے طارق اور اُس کی بیگم سمیرہ کے ساتھ سنٹرل لندن کی سیر کی۔ بیکنگم پیلس پر سیاحوں کی بڑی تعداد دیکھنے کو ملی اور اس کے بعد ہائیڈ پارک کا دورہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: گاڑی نہ روکنے پر ڈکیتوں نے ایک اور زندگی چھین لی
مزید سیر و ملاقاتیں
24 ستمبر کو جمعہ کی نماز مسجد میں پڑھی گئی اور 25 ستمبر کو ہمیں حاجی اکرم صاحب نے اپنے گھر Stratford لے گئے۔ 27 ستمبر کو حاجی خوشی کی شام کی دعوت پر شرکت کی۔
29 ستمبر کو حاجی اکرم، اُن کی بیگم خورشید بیگم، اور بہو ثوبیہ کے ساتھ "Windsor Castle" کا دورہ کیا، راستے میں "Hamer Smith Bridge" دیکھا۔ پھر "Reading Fast City" میں سیر کی، شام 8 بجے واپس لوٹ کر کھانا کھایا۔
آخری سیر اور تفریحات
30 نومبر کو آکسفورڈ سٹریٹ میں گھومے۔ 2 دسمبر کو حاجی اکرم کے بیٹے طاہر کے گھر پہنچے، جہاں اُن کی بیگم گھر پر نہیں تھیں۔ بعد میں ساؤتھ اینڈ کے لیے روانہ ہوئے، جہاں ہم Amusement Park میں گئے اور ساحل سمندر کا لطف اٹھایا۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








