کراچی ریلوے اسٹیشن پر والد کے مسلم ہائی اسکول انبالہ کے پرانے کلاس فیلوز ہمیں لینے آئے، شکریہ ادا کیا اور کہا ہمیں حاجی کیمپ لے جائیں
مصنف کا تعارف
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 363
یہ بھی پڑھیں: آئندہ ہفتے ججز بڑھانے کا حکومتی بل ضرور آئے گا: بیرسٹر عقیل
پہلا قومی جیمبوری
غالباً دسمبر 1959ء میں جب میں بارہویں کلاس میں تھا، سکاؤٹنگ کی 3 روزہ کل پاکستان نیشنل جیمبوری کا انعقاد ڈھاکہ مشرقی پاکستان میں ہوا۔ جس کا افتتاح صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خان نے کیا۔ جیمبوری میں گورنمنٹ کالج کی جانب سے شمولیت کے لیے جانے والوں میں میرا نام بھی سرفہرست تھا۔ والد صاحب سے خرچ کے لیے ایکسٹرا 200 روپے کا مطالبہ کیا جسے پورا کرنے سے انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ اس طرح میں پہلی کل پاکستان نیشنل جیمبوری میں شامل ہونے سے رہ گیا جس کا قلق مجھے ایک عرصہ تک رہا۔ کیونکہ جنرل ایوب خان نے افتتاحی سیشن میں اپنی تقریر کے دوران ہی سکاؤٹس سے وصول کردہ رقم 200 روپے انہیں واپس کر دینے کا اعلان کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے 35 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان
حج کا سفر
60 سال کی عمر ہونے پر والد صاحب بینک کی ملازمت سے 1977ء میں ریٹائرڈ ہوگئے۔ 1981ء میں میرے والد اور والدہ کی درخواستیں برائے حج منظور ہوگئیں۔ اس زمانے میں حج فلائٹس صرف کراچی سے جدہ کے لیے جاتی تھیں۔ میں ان دنوں فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے فیلڈ آفس فیصل آباد میں بطور ڈائریکٹر فیلڈ تعینات تھا۔ والد صاحب کی خواہش پر میں انہیں کراچی چھوڑنے گیا۔ کراچی ریلوے اسٹیشن پر والد صاحب کے مسلم ہائی سکول انبالہ کے ایک پرانے کلاس فیلو ہمیں لینے آئے۔ والد صاحب نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیں حاجی کیمپ تک لے جائیں، وہاں رپورٹ کرنے کے بعد ہمیں کسی قریب ہوٹل میں پہنچا دیں۔ لیکن وہ اصرار کرکے ہمیں اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے، جہاں انہوں نے ہمیں دو تین روز بڑی آؤ بھگت کے ساتھ رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: ن لیگ میں شمولیت کا معاملہ، پی ٹی آئی نے 4 منحرف اراکین اسمبلی کے خلاف بڑا فیصلہ کر لیا
مسجد اور دینی تعلیم
والد صاحب کے دوست کے دو بیٹے تھے جو ایئرلائن میں اچھے عہدوں پر کام کر رہے تھے۔ حاجی کیمپ سے متعلقہ معاملات بھی بآسانی طے ہوگئے۔ کراچی گلشن اقبال میں اڑھائی روزہ قیام کے دوران والد صاحب کے دوست کے ہمراہ ہم ان کے گھر کے قریب مسجد میں پانچ وقت نماز پڑھنے بھی جاتے تھے۔ وہاں کے نوجوان امام مسجد کی خوبی یہ تھی کہ وہ ہر نئے آنے والے نمازی سے قرآن مجید کی دو تین آیات سنتے اور قرآن ناظرہ پڑھنے کی ہماری صلاحیت کو محبت سے بہتر کروانے کی سعی کرتے تھے۔ مجھے ان کا یہ اقدام بہت خوبصورت اور بے حد مفید محسوس ہوا۔ جسے میں پاکستان بھر کی دیگر مساجد کے لئے آج بھی قابلِ تقلید سمجھتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: 26 نومبر احتجاج کیس: علیمہ خان پر فرد جرم عائد کرنے کیخلاف اپیل دائر
والد کی شخصیت
میرے والد ظاہری طور پر جتنے سخت گیر اور ڈسپلن کے قائل تھے، وہ اتنے ہی دل گداز اور نرم دل تھے۔ میں نے اپنی گذشتہ 83 سالوں کی زندگی میں ان سے زیادہ حوصلہ مند، باہمت، اپنے قانونی حقوق کے لئے انتھک جدوجہد کرنے والے، غریب پرور اور ہمدرد، مہمان نواز، دوست نواز، کفایت شعار لیکن تعلیم، شادی اور دیگر مواقع پر خرچ کرنے میں دریا دلی، عالی حوصلگی کا نمونہ کسی کو نہیں پایا۔ جڑانوالہ شہر میں ہر کوئی ان کی دیانتداری اور نیکی کی تعریف کرتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظوروٹو انتقال کر گئے
خاندانی تاریخ اور محنت
میری عمر 5 سال کی ہوگی جب موضع دھین/ انبالہ اپنے گاؤں میں ایک روز والد صاحب برفی اور لڈو بڑی مقدار میں گھر لے کر آئے اور بتایا کہ ان کے دادا نے جو زمین کچھ رقم بطور قرضہ لے کر رہن کر دی تھی، اس کا مقدمہ ہم جیت گئے ہیں اور وہ زمین واگزار کروا لی گئی ہے جس کی خوشی میں گاؤں بھر کے عزیزوں اور احباب میں مٹھائی تقسیم کی گئی تھی۔ بینک کی ملازمت کے ساتھ ساتھ مقدمہ بازی کا یہ سلسلہ پاکستان میں آ کر طویل تر ہوتا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تعاون کے 7 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
مہاجرت کا چیلنج
پاکستان میں مہاجر بن کر آنے کے بعد پہلے کئی سالوں تک انڈیا میں چھوڑے گئے مکان و اراضی کے عوض الاٹمنٹ کے لئے مہاجر بن کر بہت دھکے کھانے پڑے۔ اس ضمن میں فیصل آباد، سرگودھا اور لاہور جا کر دفاتر کے سالوں تک چکر لگانے پڑے۔ یہ تمام کام 1950ء کے عشرے کے آخر میں جا کر مکمل کنفرم ہوئے۔ جڑانوالہ ڈھیسیاں چک 153 گ ب میں ایک بااثر پارٹی کے خلاف مخبری کیس/ مقدمہ/ اپیلوں تک جیت کر 12 ایکڑ اراضی والد صاحب کے نام الاٹ ہوئی۔ اسی طرح چک نمبر 42 شمالی… سرگودھا میں بھی 2 ایکڑ اراضی طویل مقدمہ بازی کے بعد الاٹ ہوئی۔ والد صاحب کی زندگی بھر شبانہ روز محنت اور دیانت کا صلہ ہے جو ہم تینوں بھائی اور ہماری اولادیں معاشی پریشانی سے آزاد خوشحال متوسط طبقے کی زندگی بسر کر رہی ہیں اور مزید تعلیم اور محنت کے ذریعے آگے بڑھ رہی ہیں۔
نوٹ
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








