ٹرمپ کی جانب سے تجارتی بائیکاٹ کی دھمکی کے بعد سپین کے وزیر اعظم اہم دورے پر چین پہنچ گئے
چین کا دورہ: پیڈرو سانچیز کی اہمیت
بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز ایسے وقت میں چین گئے ہیں جب امریکہ اور سپین کے درمیان سفارتی اور تجارتی تعلقات تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برداشت، حسن سلوک، فرض شناسی اور دیانتداری عنقا ہوتے جا رہے ہیں، اعلیٰ کارکردگی اور ملکی تعمیر میں مثبت کردار کی توقع رکھنا عبث ہے۔
امریکی صدر کا غیر متوقع اعلان
یہ دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس غیر متوقع اعلان کے فوری بعد ہو رہا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ امریکہ سپین کے ساتھ تمام تر تجارتی تعلقات ختم کردے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 40 اوورز تک میچ ہاتھ میں تھا، جلد وکٹیں گرنے سے سنبھل نہ سکے: کپتان محمد رضوان
میگا جیو پالیٹکس کا پس منظر
میگا جیو پالیٹکس کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اگر سپین اسرائیل کی حمایت سے انکار کرے گا تو امریکہ اس سے تجاری تعلقات ختم کردے گا۔
سفارتی ماہرین کی رائے
امریکی تجارتی بائیکاٹ کے جواب میں وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کا دورہ چین نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ سفارتی ماہرین اسے سپین کی جانب سے واشنگٹن کے دباؤ کے خلاف ایک مضبوط پیغام قرار دے رہے ہیں۔








