بجلی کے بلوں میں سلیب سسٹم کے نفاذ کیخلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ہائیکورٹ نے بجلی بلوں میں سلیب سسٹم کے نفاذ کے خلاف دائر درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: وادیٔ نیلم میں جیپ کھائی میں گرنے سے ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق
نیپرا اور دیگر سے جواب طلبی
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق عدالت نے درخواست پر نیپرا سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ بتایا جائے سلیب سسٹم کس قانون کے تحت نافذ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: حزب اللہ کا جھنڈا لہرانے کے الزام میں آئرش گلوکار پر دہشت گردی کی فرد جرم عائد
درخواست کا پس منظر
اشبا کامران کی درخواست پر ابتدائی سماعت جسٹس خالد اسحاق نے کی۔ درخواست میں نیپرا سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے عمران خان اور بشری بی بی کو توڑا نہیں جا سکتا، حافظ فرحت عباس
درخواست گزار کا مؤقف
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بجلی بلوں میں سلیب سسٹم کا نفاذ آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ 200 یونٹس تک بجلی کے بلز پروٹیکٹڈ کیٹگری میں شامل ہوتے ہیں، تاہم سلیب سسٹم کے تحت بجلی کے بل دوگنا سے بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے پاکستان کے 8 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے کر تحفہ دیا ہے، ٹرمپ کی کابینہ میں گفتگو
سزا کے طور پر زیادہ بلز
مؤقف میں کہا گیا کہ یہ دوگنا سے بھی زیادہ بل سزا کے طور پر 6 ماہ تک بھیجے جاتے ہیں۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ نیپرا ایک ریگولیٹری اتھارٹی ہے نہ کہ سزا دینے والا ادارہ، جبکہ سلیب سسٹم نیپرا ایکٹ کی متعدد دفعات سے بھی متصادم ہے۔
عدالت سے استدعا
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ بجلی بلوں میں سلیب سسٹم کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا جائے۔








