جی ایچ کیو حملہ کیس: شیخ رشید کی بریت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ محفوظ
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) انسداد دہشت گردی عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی بریت کی درخواستوں پر سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا، جو تھوڑی دیر میں سنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا دریائے راوی کا دورہ، سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا
کیس کی سماعت
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں سانحہ 9 مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے واثق قیوم، صداقت عباسی، امجد نیازی، شیریں مزاری، اور میجر طاہر صادق کی بریت کی درخواستوں پر سماعت مکمل کرلی جبکہ سرکاری پراسیکیوٹرز کے بھی دلائل مکمل ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: Federal Government Imposes Ban on Pashtun Protection Movement
وکلا کی دلائل
وکلا صفائی نے بری کرنے جبکہ سرکاری وکلا نے درخواستیں مسترد کرنے کی استدعا کی۔
یہ بھی پڑھیں: متنازع ٹوئٹ کیس: کمرۂ عدالت میں وکلاء کی تلخ کلامی، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منسوخ
شیخ رشید احمد کا بیان
بعدازاں عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں شیخ رشید احمد کی بریت کی درخواستوں پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا، فیصلہ کچھ دیر میں سنائے جانے کا امکان ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں، شیخ رشید احمد نے کہا کہ سیاستدان کبھی بھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرتے لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل حالات ہیں لیکن سیاست دان مذاکرات کے دروازے کھلے رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکم جون سے کمی کا امکان
مقدمے میں بے گناہی
شیخ رشید احمد نے یہ بھی کہا کہ جتنے بے گناہ لوگوں کو اس کیس میں پکڑا گیا ہے، ان کی رہائی ہونی چاہیے۔ واثق قیوم عباسی اور صداقت عباسی اپنے بیان سے پیچھے ہوگئے، جس کی وجہ سے ان کے کیسز بے جان ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے وکلا نے بریت کی درخواستوں پر آئین اور قانون کے مطابق دلائل دیئے۔
مقدمے کی کمزوری
انہوں نے یہ بیان کیا کہ ہمارے کیس میں کوئی جان نہیں ہے، وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔ مقدمے میں سینکڑوں ملزمان ہیں، اور استغاثہ نے آج اپنا کمزور انداز میں کیس لڑا۔








