ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی تقرری لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی تقرری کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی؛ڈیفنس میں سلمان فاروقی کے تشدد کا نشانہ بننے والا نوجوان اور اس کی فیملی سامنے آ گئی
درخواست کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈارکی تقرری کے خلاف درخواست شہری ندیم سرور نے لاہورہائیکورٹ دائر کی، درخواست میں وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین پاکستان میں ڈپٹی وزیراعظم کا کوئی عہدہ نہیں ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ڈپٹی وزیراعظم مقرر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مفتی طارق مسعود کا پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کے قتل کے بعد پرانا ویڈیو کلپ وائرل
آئینی تحفظات
درخواست میں کہا گیا کہ ڈپٹی وزیراعظم پاکستان کے وزیراعظم کا نائب تصور کیا جاتا ہے، وزیراعظم کو اراکین قومی اسمبلی ووٹ کے ذریعے منتخب کرتے ہیں، اسحاق ڈار سینیٹر ہونے کی بنا پر ڈپٹی وزیراعظم نہیں بن سکتے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو غیر آئینی طور پر ڈپٹی وزیراعظم کی مراعات دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا پبلک ٹرانسپورٹ سے محروم 17 اضلاع میں فری ٹرانسپورٹ چلانے کا فیصلہ
عدالت سے استدعا
درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت سینیٹر اسحاق ڈار کی ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے پر تقرری کالعدم قرار دے اور فیصلے تک اسحاق ڈار کو ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے پر کام سے روکنے کا حکم دے۔
تاریخی پس منظر
واضح رہے کہ اپریل 2024 میں وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کو نائب وزیرِ اعظم مقرر کیا تھا۔








