ہمارا مینڈیٹ چرا کر احتجاج کا حق بھی چھین لیا گیا: شبلی فراز
پی ٹی آئی کے رہنما کی تشویش
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پی ٹی آئی کے رہنما، سابق وفاقی وزیر اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ہم سے انتخابی نشان چھین لیا گیا ہے۔ ہماری قیادت کو گرفتار یا مجبور کیا گیا کہ منظرعام پر نہ آئے۔
یہ بھی پڑھیں: 26ویں آئینی ترمیم کے زخم ابھی تازہ ہیں اور اب 27ویں آئینی ترمیم کی بات کی جا رہی ہے،اسد قیصر
انتخابات کی شفافیت پر سوالات
بہت پہلے سے آثار نمایاں تھے کہ عام انتخابات شفاف نہیں ہوں گے۔ ہم سے ہمارا مینڈیٹ چرایا گیا۔ پی ٹی آئی پر غیر معمولی مظالم ڈھائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیرف اقتصادی کساد بازاری اور قرضوں کی ادائیگی میں کمی کا سبب بنیں گے، جے پی مورگن چیئرمین کی وارننگ
سیاسی سرگرمیوں کی اہمیت
سینیٹ کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ ہم نے جمہوری و آئینی حق استعمال کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ احتجاج نہ کرنا زیادہ شرم ناک ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا ڈاکٹر وردہ کے قتل کا نوٹس، آئی جی خیبر پختونخوا سے رپورٹ طلب
پرامن احتجاج کی کامیابی
سینیٹ کے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ احتجاج میں جلسے بھی ہوتے ہیں اور ریلیاں بھی نکالی جاتی ہیں۔ ہم نے پرامن احتجاج کی کال دی اور لاکھوں لوگ آئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کا بانی پی ٹی آئی کے چیک اپ کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم
سیاسی شعور کی نشانی
شبلی فراز کا کہنا تھا کہ معاشرہ سیاسی طور پر باشعور ہو چکا ہے۔ ہمارے دور میں بھی احتجاج کیا گیا مگر ہم نے کبھی رکاوٹ کھڑی نہیں کی، کسی کو نہیں روکا۔ ہم سے ہمارا احتجاج کا جمہوری حق چھینا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز سے رکن قومی اسمبلی چوہدری نصیر احمد عباس اور مسلم لیگ (ن) جاپان کے صدر ملک نور اعوان کی ملاقات
الیکشن ٹربیونلز کے حوالے سے خدشات
سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ الیکشن ٹربیونلز محض مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ مخصوص نشستوں کے حوالے سے تاحال جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں تاحال نامکمل ہیں۔
معلومات کی تقسیم اور بحث کا مطالبہ
شبلی فراز کا کہنا تھا کہ جب یہ سب کچھ جاری رہا تو ہم نے پرامن احتجاج کی کال دی۔ ہمیں بحث بھی کرنی ہے اور حقائق بھی سامنے رکھنے ہیں۔








