لاہور ہائیکورٹ،ڈانس پارٹی کے ملزمان کی ویڈیو وائرل ہونے پر تھانیدار نے معافی مانگ لی
لاہور میں ڈانس پارٹی کے ملزمان کی گرفتاری
لاہور (آئی این پی) قصور میں مبینہ طور پر ڈانس پارٹی سے گرفتار کیے گئے ملزمان کی ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، متعلقہ تھانے کے اسٹیشن ہائوس آفیسر (ایس ایچ او) نے عدالت سے معافی مانگ لی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے میڈیکل کالجز میں بلوچستان کے طلبا کے داخلے کا معاملہ، وزیر اعلی بلوچستان نے وزیر اعلی پنجاب کو خط لکھ دیا
عدالت میں پیشی اور معافی
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے شہری کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی، متعلقہ ایس ایچ او اور 2 کانسٹیبلز کمرہ عدالت میں پیش ہوئے۔ متعلقہ ایس ایچ او کی جانب سے عدالت میں جواب جمع کروا دیا گیا، جس میں ایس ایچ او نے آگاہ کیا کہ ان کے والد ہسپتال میں زیر علاج تھے اور وہ تھانے سے جاچکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے لیڈر کے بارے میں اخلاق سے گری ہوئی باتیں کرو گے تو آپ کو تھپڑ ہی پڑے گا، ایم پی اے خالد نثار ڈوگر
مزید کارروائی کی ملتوی
متعلقہ ایس ایچ او نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی، دونوں کانسٹیبلز نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ اس کیس کے حوالے سے وکیل کی خدمات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پولیس اہلکاروں نے کہا کہ عدالت کچھ مہلت فراہم کرے، جس پر عدالت نے کیس کی مزید کارروائی آج (بدھ) تک ملتوی کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: جعلی پنشن اسکینڈل، 8 ملزمان نے 900 ملین روپے سے زائد کی پلی بارگین کرلی
گرفتار شدگان کی تعداد
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے پنجاب کے ضلع قصور میں فارم ہائوس پر چھاپے کے دوران مبینہ فحش رقص، لائوڈ اسپیکر اور منشیات کے استعمال کے الزام میں 25 خواتین اور 30 مردوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے ملزمان کی ویڈیو اور ان سے ناروا سلوک کے الزام میں ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) نے تھانہ مصطفی آباد کے 2 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا تھا.
مقامی عدالت کا فیصلہ
رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مصطفی آباد پولیس کو ہفتے کو اس وقت شرمناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب مقامی عدالت نے خواتین سمیت تمام 55 افراد کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے مقدمہ خارج کر دیا تھا۔ پولیس نے جمعہ کی رات پکی حویلی گاں کے قریب ایک فارم ہائوس پر چھاپہ مارا تھا، وہاں مبینہ ڈانس پارٹی کے انعقاد پر 55 افراد کو گرفتار کر کے انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا تھا۔








