اے این پی کی اے پی سی میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی شرکت پر سیاسی کمیٹی کا اظہار برہمی
پشاور میں اے این پی کی کانفرنس
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) اے این پی کی معدنیات ایکٹ پر بلائی گئی کانفرنس میں پی ٹی آئی رہنماوں کی شرکت پر پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا۔ صوبائی صدر جنید اکبر نے فیصلے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے رہنماﺅں کی شرکت سے متعلق کمیٹی کو اعتماد میں نہ لینے پر معذرت کی۔
یہ بھی پڑھیں: اگر آئی سی سی یہ کہے کہ براڈکاسٹر کو ہونے والا نقصان پاکستان کے حصے میں آنے والی آئی سی سی آمدن سے کاٹ لیا جائے تو مجھے حیرت نہیں ہوگی، بھارتی کمنٹیٹر ہرشا بھوگلے
پی ٹی آئی رہنماوں کی شرکت
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق خیبر پختونخوا میں معدنیات ایکٹ سے متعلق اے این پی کی آل پارٹیز کانفرنس میں پی ٹی آئی کے رہنما علی اصغر اور جنرل سیکرٹری پشاور ریجن شیر علی ارباب نے شرکت کی تھی، جس پر پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں کمیٹی ارکان نے سخت اعتراضات اٹھائے۔
یہ بھی پڑھیں: بسنت کاجوش: کراچی سے لاہور بسنت منانے جانے والے شہریوں کے لیے فضائی اور ریلوے سفر شدید مہنگا اور مشکل ہو گیا
کمیٹی کی تنقید
سیاسی کمیٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ ایمل ولی خان نہ صرف پارٹی قیادت پر مسلسل تنقید کرتے آئے ہیں بلکہ ان کے موقف سے نظریاتی اختلاف بھی واضح ہے۔ انہوں نے کئی بار بانی پی ٹی آئی اور ان کے اہلخانہ کی کردار کشی کی۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ 2کیس ؛ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کیخلاف 2گواہوں کے بیانات قلمبند
جنید اکبر کا بیان
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے اس حوالے سے جیو نیوز کو بتایا کہ مذکورہ رہنماوں کو ان ہی کی ہدایت پر کانفرنس میں بھیجا گیا تھا، جس کا مقصد پارٹی کا دفاع کرنا اور معدنیات ایکٹ پر موقف پیش کرنا تھا۔ انہوں نے سیاسی کمیٹی کو اعتماد میں نہ لینے پر معذرت کی اور کہا کہ وہ اس کا اظہار واٹس ایپ گروپ میں کر چکے ہیں۔
شیر علی ارباب کا موقف
دوسری جانب پی ٹی آئی پشاور ریجن کے جنرل سیکرٹری شیر علی ارباب نے جیو نیوز کو بتایا کہ اگر سیاسی کمیٹی باضابطہ طور پر مو¿قف مانگے گی تو وہ اپنی پوزیشن واضح کریں گے。








