460 روڈ کی تعمیر و توسیع اور بحالی کا کام تیزی سے جاری، اگلے مالی سال میں انٹر ڈسٹرکٹ اور انٹر ویلج روڈ کی تعمیر و بحالی کی تجویز
پنجاب میں سڑکوں کی بحالی کا پروگرام
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب میں تاریخ کا رابطہ سڑکوں کی بحالی کا سب بڑا پروگرام کامیابی سے جاری ہے۔ جس کے تحت 12 ہزار کلومیٹر روڈز کی تعمیر و مرمت اور بحالی و توسیع کی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیرِ صدارت اجلاس میں سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو نے ہر ڈویژن اور ڈسٹرکٹ کے روڈ پراجیکٹ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس اور قانونی ماہرین نے بجٹ کے ٹیکس اقدامات پر سنگین خدشات اور آئینی اعتراضات اٹھا دیے
اجلاس کی اہمیت
اجلاس میں اگلے مالی سال میں انٹر ڈسٹرکٹ اور انٹر ویلج روڈ کی تعمیر و بحالی کی تجویز لی گئی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے عوام کی ضرورت اور استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے روڈز پراجیکٹ کی ترجیحات مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے روڈز سائیڈ کو تجاوزات سے پاک کرنے کے لیے بائی لاز پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان، انڈیکس میں 1797 پوائنٹس کی کمی
پراجیکٹس کی پیشرفت
اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 460 روڈ کی تعمیر و توسیع اور بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ قائد اعظم انٹر چینج تا واہگہ باڈر روڈ کی تعمیر مکمل کر لی گئی ہے جبکہ ڈرین اور وال کی تعمیر جاری ہے۔ ملتان وہاڑی دو رویہ روڈ پراجیکٹ کی ایڈیشنل کیرج وے کی تعمیر جاری ہے جبکہ مری میں روڈز کی تعمیر و بحالی کے تمام پراجیکٹس مکمل ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیپال کے مستعفی وزیراعظم بھی ملک سے فرار، ویڈیو سامنے آگئی
روڈز کی بہتری کے اقدامات
کرتار پور راہداری پراجیکٹ میں شکر گڑھ روڈ مکمل کر لیا گیا، اور مریدکے نارووال روڈز کی تعمیر جاری ہے۔ اجلاس میں روڈز کی عمومی چوڑائی 12 فٹ رکھنے کی تجویز پر اتفاق رائے قائم کیا گیا۔ شہروں اور دیہات میں یکساں طرز کی ٹف ٹائل لگانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نئے منصوبوں کا جائزہ
اجلاس میں لاہور رنگ روڈ سدرن لوپ ساڑھے 18 کلومیٹر روڈ پراجیکٹ کا جائزہ لیا گیا۔ لیہ بھکر کو موٹروے سے منسلک کرنے کے لیے ایکسپریس وے پراجیکٹ کی فیزیبلٹی سٹڈی رپورٹ طلب کی گئی جبکہ کھاریاں راولپنڈی ایکسپریس روڈ پراجیکٹ پر بھی غور کیا گیا۔








