ہم کائنیٹک حملے کا دفاع کرلیں گے، معیشت کا کیا ہوگا؟ مفتاح اسماعیل کا استفسار
مفتاح اسماعیل کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) عوام پاکستان پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے استفسار کیا کہ ہم کائنیٹک حملے کا دفاع کرلیں گے، معیشت کا کیا ہوگا؟ کراچی میں دی ویسٹا سمٹ سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس نہج پر لانے میں سب کا کردار ہے، حالات اس لیے ایسے ہیں کہ جو اصلاحات کرنی ہیں وہ نہیں کر رہے۔
یہ بھی پڑھیں: روسی صدر پیوٹن کی جانب سے نئے سپریم لیڈر کی تقرری پر مجتبیٰ خامنہ ای کو مبارکباد
بھارت کے خطرات
انہوں نے کہا کہ بھارت دشمن بن کر ابھر رہا ہے، پاکستان میں سیاسی ہم آہنگی درکار ہے۔ ممکن ہے وہ حملہ کرکے سوال پوچھے کہ ہم کتنے متحد ہیں۔ سابق وزیر خزانہ نے مزید کہا، "سوال یہ ہے کہ ہم کائنیٹک حملے کا دفاع کرلیں گے، معیشت کا کیا ہوگا؟"
یہ بھی پڑھیں: ایران سے کنکشن منقطع، مکران ڈویژن نیشنل گرڈ سے منسلک، بجلی بحال کر دی گئی
قومی مسائل
اُن کا کہنا تھا کہ غیرقانونی طور پر باہر جانے والوں کو حادثہ پیش آئے تو بھیجنے والے کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے ہیں، شہباز شریف کے خلاف بھی مقدمہ ہونا چاہیے کہ یہ لوگ باہر کیوں جارہے ہیں۔ مفتاح اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کی وجہ سے مالی خسارہ ہے، اسے ٹھیک کیوں نہیں کرتے؟ صوبوں کو ملنے والی رقم کیوں شہروں کو نہیں ملتی؟
یہ بھی پڑھیں: ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے 10ویں ایڈیشن کے لیے غیر ملکی کھلاڑیوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع
قانون کی صورتحال
انہوں نے کہا کہ قومی ایئرلائن کی نجکاری میں کوئی نہ کوئی پخ نکل آتی ہے، نیب سیاسی مقاصد کےلئے استعمال ہورہی ہے، ملک میں قانون کی بالادستی نہیں۔ سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ 26ویں ترمیم نے عدالتی نظام کو ختم کردیا ہے، پیکا طرز کا قانون پی ٹی آئی دور میں آیا تو شہباز شریف نے سخت بیان دیا تھا۔
عوام کی خدمت
اُن کا کہنا تھا کہ حکمران عوامی ووٹ سے نہیں جیتتا تو وہ عوامی کام کیوں کرے گا؟ بنگلا دیش الگ ہوا تو ان کی فی کس آمدنی ہم سے آدھی تھی، آج زیادہ ہے۔








