دو سال سے ملزم جیل میں ہے، عدالت 727 دن بعد تفتیش کی اجازت نہ دے، وکیل سلمان صفدر
لاہور ہائیکورٹ میں سماعت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کے دوران وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ دو سال سے ملزم جیل میں ہے۔ 727 دن کے بعد انہوں نے تفتیش کیلئے درخواست دائر کی، اس سے پہلے بھی یہی تفتیش مکمل کی جا سکتی تھی، یہ چاہتے ہیں کہ ثبوت اور شواہد بنائے جائیں، عدالت انہیں اس کی اجازت نہ دے اور ضمانت منظور کرے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ امر المیہ سے کم نہیں کہ 1970ء کے الیکشن میں شکست کے بعد پاکستان کونسل مسلم لیگ کے سرکردہ رہنماؤں نے مرد میدان ہونے کا ثبوت نہیں دیا
تفتیش کے حوالے سے پراسیکیوٹر کا موقف
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے تفتیش کیلئے انسداد دہشتگردی عدالت میں درخواست دائر کی گئی، بانی پی ٹی آئی کے فوٹو گرامیٹک اور پولی گرافک ٹیسٹ کروانے کی استدعا کی گئی، ماتحت عدالت نے درخواست منظور کرلی۔ عدالت اس تفتیش کے مکمل ہونے تک مہلت دے۔
وکیل کا بیان
بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ دو سال سے ملزم جیل میں ہے۔ 727 دن کے بعد انہوں نے تفتیش کیلئے درخواست دائر کی، اس سے پہلے بھی یہی تفتیش مکمل کی جا سکتی تھی۔ یہ چاہتے ہیں کہ ثبوت اور شواہد بنائے جائیں، عدالت انہیں اس کی اجازت نہ دے اور ضمانت منظور کرے۔ اس تفتیش کیلئے ملزم کا جیل میں ہونا ضروری نہیں، ان ثبوتوں کی بنیاد پر درخواستیں زیر التوا نہیں رکھی جا سکتیں۔








