آئی اے ای اے کی پاکستانی جوہری تنصیبات سے تابکاری کے اخراج کی تردید
مودی سرکار کو ہزیمت کا سامنا
جنیوا (ڈیلی پاکستان آن لائن) مودی سرکار کو ایک بار پھر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق کرارا جواب دیدیا۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 28 سیاحوں کے قتل پر پاکستان کا اظہار افسوس
بھارت کے دعوے کی تردید
نجی ٹی وی سما کے مطابق عالمی ادارے نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ غلط ہے، وہاں کسی قسم کی تابکاری کے اخراج کی کوئی خبر نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شبیر اقبال کی شاندار برتری، 11ویں جے اے زمان میموریل اوپن گالف چیمپئن شپ کا فیصلہ کن مرحلہ آج ہوگا
آپریشن سندور کے بعد کا رد عمل
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے بھارت کے حالیہ آپریشن سندور میں فضائی حملوں کے بعد پاکستان کی جوہری تنصیبات سے تابکاری کے اخراج کی خبروں کی باضابطہ تردید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان، اعلان کچھ دیر میں ہوگا
غلط معلومات کی وضاحت
یہ دعوے، سوشل میڈیا اور بعض غیر ملکی میڈیا اداروں پر بڑے پیمانے پر گردش کر رہے تھے، ان میں الزام لگایا گیا کہ ہندوستانی میزائل نے پاکستان کے ضلع سرگودھا میں کڑانہ پہاڑیوں کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں ایک تابکار واقعہ پیش آیا تھا۔ تاہم آئی اے ای اے نے واضح کیا ہے کہ ان دعووں کی حمایت کرنے والا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تیری چھاؤں روٹھی ہے تو ہر خوشی بھی روٹھی ہے۔۔۔
آئی اے ای اے کا موقف
آئی اے ای اے کے ترجمان فریڈرک ڈہل نے کہا کہ ہمیں ان رپورٹس کا علم ہے، آئی اے ای اے کو دستیاب معلومات کی بنیاد پر پاکستان میں کسی بھی جوہری تنصیب سے کوئی تابکاری کا اخراج نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: فریبِ عام برائے عوام چل رہا ہے۔۔۔
دونوں ممالک کی ذمہ داری
آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ اس بیان کا مقصد غلط معلومات کو دور کرنا ہے، جوہری معاملات میں دونوں ممالک کی جانب سے پیشہ ورانہ مہارت اور تحمل کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔
بھارتی حکام کی وضاحت
بھارتی دفاعی حکام نے آپریشن کے دوران کسی بھی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی بھی تردید کی ہے۔ ایئر مارشل اے کے بھارتی، ڈائریکٹر جنرل آف ایئر آپریشنز نے بتایا کہ بھارتی فضائیہ نے کڑانہ پہاڑیوں یا پاکستان میں کسی جوہری تنصیبات پر حملہ نہیں کیا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ ہم نے کڑانہ پہاڑیوں کو نشانہ نہیں بنایا۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے اس مو¿قف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ فوجی کارروائیاں روایتی اہداف تک محدود تھیں اور ان میں جوہری مقامات شامل نہیں تھے۔








