رجب بٹ کا اہلیہ کے ساتھ ناروا سلوک شدید تنقید کی زد میں آگیا
رجب بٹ کا نیا تنازعہ
لاہور (ویب ڈیسک) معروف پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ ایک بار پھر سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں جہاں ان کے فیمیلی ولاگز عوام میں کافی مقبول ہوتے ہیں، وہیں حالیہ ویڈیو نے انہیں ایک نئے تنازعے میں لا کھڑا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کو قائل نہیں کیا جاسکتا، رانا ثنا اللہ
ویڈیو پر ناظرین کے تاثرات
آج نیوز کے مطابق رجب بٹ کے حالیہ فیملی ڈنر ولاگ کو ایک طرف جہاں مداحوں نے پسند کیا، وہیں بہت سے ناظرین نے اس ویڈیو میں ان کے رویے پر سوالات اٹھائے، خاص طور پر اہلیہ ایمان رجب کے ساتھ ان کے سرد رویے پر مداح سوال اٹھاتے دکھائی دیے۔
یہ بھی پڑھیں: میر پور خاص، آٹا 137 روپے فی کلو فروخت ہونے لگا
غزل کو کھانا پیش کرنا
ویڈیو کے ایک مخصوص حصے میں رجب بٹ کو اپنی بہن غزل کو کھانے کی پیشکش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ایمان کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا۔ یہ منظر لاکھوں ناظرین نے محسوس کیا، اور اس پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھیں: نئی مالیاتی پالیسی کا اعلان 15 دسمبر کو کیا جائے گا
سوشل میڈیا پر مداحوں کی رائے
سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا، ”میرا دل ایمان کے لیے رو رہا ہے، میں نے رجب بٹ کو ناپسند کرنا شروع کر دیا ہے۔“
ایک صارف نے لکھا،”وہ اچھے بھائی، بیٹے اور دوست تو ہیں، مگر شوہر کے طور پر بالکل ناکام ہیں۔“
ایک صارف نے رائے دی،”ایمان ایک پڑھی لکھی اور باوقار لڑکی ہے، لیکن وہ اس وقت بہت تکلیف میں ہے۔“
ایک صارف نے اسلامی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے کہا، ”اسلام بیوی کے حقوق پر بھی زور دیتا ہے، صرف ماں بہن پر نہیں۔“
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر نے 28 لاکھ گھرانوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا اعلان
رجب بٹ کے فیملی مواد کی مقبولیت
رجب بٹ اپنے خاندانی مواد، والدین، دوستوں اور بہن بھائیوں کے ساتھ تعلقات کو نمایاں کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں، اور مداح ان کی فیملی کو بے حد پسند کرتے ہیں۔
ان کی بیوی ایمان رجب بھی فینز میں ایک خوش اخلاق، سادہ اور مہذب شخصیت کے طور پر جانی جاتی ہیں، مگر حالیہ ویڈیو کے بعد ان کے ساتھ برتاؤ پر شکوک پیدا ہو چکے ہیں۔
تنازعے پر رجب بٹ کی خاموشی
ابھی تک رجب بٹ کی جانب سے اس تنازعے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم سوشل میڈیا پر ان کے رویے پر بحث جاری ہے۔ بعض مداحوں کا کہنا ہے کہ انہیں وضاحت دینی چاہیے اور اپنے رویے پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔








