پاکستانی ذہین لوگ، پاکستان کو نظر انداز نہیں کرسکتا، امریکی صدر نے دل کی بات کہہ دی
ٹرمپ کا پاکستان-بھارت جنگ بندی پر بیان
واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ خارجہ پالیسی امور میں انہیں زندگی میں آج تک جس بات پر سب سے زیادہ سراہا گیا ہے وہ پاک بھارت جنگ بندی کامیاب بنانا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستانی ذہین لوگ ہیں، وہ حیرت انگیز اشیا بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کا کل عام تعطیل کا اعلان
پاکستانیوں کی صلاحیتوں کا اعتراف
امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانیوں کی ذہانت اور ان کے ناقابل یقین حد تک شاندار اشیا تیار کرنے کی صلاحیتوں کا بھی برملا اعتراف کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں سونے کی قیمتیں کم ہوگئیں
پاکستان کے ساتھ تجارت کی اہمیت
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی پاکستان سے بہت عمدہ بات چیت ہوئی ہے۔ ہم پاکستان کو نظرانداز نہیں کرسکتے کیونکہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ بھارت کے معاملے میں تو وہ پُریقین تھے تاہم پاکستان سے بھی تجارت پر بات کی۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ امریکا سے تجارت کرے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان پیپلز پارٹی ریاض ریجن کی جانب سے پی پی پی کے 58ویں یومِ تاسیس کی تقریب کا انعقاد
امریکا اور پاکستان کے تجارتی تعلقات
صدر ٹرمپ نے اس بات پر حیرت ظاہر کی کہ ان کے پاکستان سے اچھے تعلقات ہونے کے باوجود امریکا اس ملک سے زیادہ تجارت نہیں کرتا۔ بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کی بھرپور کارروائی اور امریکی مداخلت سے جنگ بندی کے بارے میں بھی میزبان نے سوال کیا جس پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کوئی چھوٹی موٹی نہیں، بڑی ایٹمی طاقتیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: روس کا بڑا معاشی نقصان ہوگیا
ایٹمی جنگ کا خدشہ
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دونوں ملک ایک دوسرے سے سخت ناراض تھے۔ ادلے کا بدلہ ہو رہا تھا۔ یہ لڑائی مسلسل بڑھ رہی تھی اور زیادہ میزائلوں سے حملے کیے جا رہے تھے۔ دونوں ملک زیادہ سے زیادہ قوت سے حملہ آور ہو رہے تھے اور مرحلہ وہ آنا تھا کہ بات نیوکلیئر ہتھیاروں تک جا پہنچتی۔
یہ بھی پڑھیں: فخر عالم کے ملتان سلطانز کی نیلامی کے دوران طنزیہ جملوں نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا
نیوکلیئر جنگ کی خطرناک صورت حال
امریکی صدر نے کہا کہ بہت سی وجوہات کے سبب نیوکلیئر جنگ کا تو لفظ ہی غلیظ ہے۔ یہ وہ بدنما ترین چیز ہے جو کبھی رونما ہوسکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک اس کے بہت قریب تھے کیونکہ ایک دوسرے سے نفرت عروج پر تھی۔
یہ بھی پڑھیں: جمادی الاول کا چاند نظر آگیا
دونوں فریقین کے مابین خوشخبری
صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کسی بھی لمحے ہونے کو تھی۔ وہ مقام آچکا تھا کہ جب ایٹمی جنگ چھڑ جاتی تاہم اب دونوں فریق خوش ہیں۔
پس پردہ سفارتکاری
پس پردہ سفارتکاری کے بارے میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ درحقیقت انہوں نے اپنے اہلکاروں سے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کو ٹیلی فون کریں، تجارت اور ملاقاتوں کا آغاز کریں۔ انہوں نے فریقوں سے کہا کہ ہم تجارت کو بہت زیادہ بڑھائیں گے۔








