پہلے جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی سے مشاورت، پھر آصف زرداری نے کیسے پرویز مشرف کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا تھا؟ تہلکہ خیز دعویٰ
سابق صدر پرویز مشرف کا استعفیٰ
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینئر صحافی عمر چیمہ نے فرحت اللہ بابر کی کتاب کے حوالے سے سابق صدر پرویز مشرف کے مستعفی ہونے اور اس میں آصف علی زرداری کے کردار پر روشنی ڈالی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سردی کے باعث درجنوں بچے نمونیہ کا شکار، ملتان میں 24 گھنٹوں کے دوران 48 بچوں میں نمونیہ کی تصدیق
کتاب 'دی زرداری پریزیڈنسی'
عمر چیمہ نے روزنامہ جنگ کے لیے لکھا کہ فرحت اللہ بابر کی جانب سے لکھی گئی کتاب ’دی زرداری پریزیڈنسی‘ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کی رضا مندی حاصل کرنے کے بعد جنرل پرویز مشرف کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا۔ اپنی یادداشت میں فرحت اللہ بابر نے یہ انکشاف بھی کیا کہ کس طرح ایوان صدر کے باہر ٹرپل ون بریگیڈ تعینات کرکے دباؤ ڈالا گیا تاکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: اقبال کے فلسفے کو اپنا کر معاشی خود انحصاری، یکجہتی کو فروغ دینا ہو گا: وزیراعظم
زرداری کی پہلی مدت کی مشاہدات
یہ کتاب انہوں نے صدر زرداری کی پہلی مدت (2008 تا 2013) کے دوران بحیثیت صدارتی ترجمان حالات و واقعات کا مشاہدہ کرنے کے بعد لکھی ہے۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ آصف علی زرداری نے پرویز مشرف کو معزول کرنے کے حوالے سے پہلے تو جنرل کیانی کے ممکنہ رد عمل کا اندازہ لگایا، اس صورتحال پر جنرل کیانی نے کوئی اعتراض نہ کیا، حتیٰ کہ آفتاب شعبان میرانی کو اگلا صدر بنانے کی تجویز تک دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں 300 روپے مالیت کی نسوار چوری پر مقدمہ درج
مواخذے کا مطالبہ
اس کے بعد زرداری نے اپنے بااعتماد پارٹی ارکان کو صوبائی اسمبلیوں میں پرویز مشرف کے مواخذے کا مطالبہ کرنے کی قراردادیں پیش کرنے کی ہدایت کی اور میجر جنرل (ر) محمود علی درانی کے ذریعے ایک پیغام پہنچایا جس میں پرویز مشرف پر زور دیا گیا کہ وہ مستعفی ہو جائیں یا مواخذے کا سامنا کریں۔ پہلے تو پرویز مشرف رضامند نہ ہوئے لیکن بلآخر چند ہفتوں بعد مستعفی ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ میں بھی وزیر اعظم شہباز شریف کا روائتی جذباتی انداز، ڈائس پر مکّے برسادیئے۔
نواز شریف اور زرداری کی گفتگو
کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نواز شریف ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کے دوران بھی صدارت کے خواہش مند تھے۔ ایک غیر رسمی گفتگو میں نواز شریف نے آصف زرداری سے کہا کہ میری پارٹی سمجھتی ہے کہ مجھے صدر بننا چاہیے، اس پر آصف زرداری نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ میری پارٹی بھی سمجھتی ہے کہ مجھے صدر بننا چاہیے، اس کے بعد یہ بحث وہیں ختم ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی اور بی سی بی میں معاملات چل رہے ہیں، جب مہمان گھر آجائے تو بہت سی باتیں بھلا دی جاتی ہیں، محسن نقوی
کتاب کے آٹھ حصے
یہ کتاب 8 حصوں پر مشتمل ہے جن میں سے چوتھا حصہ عدلیہ کے متعلق ہے اور اس میں زرداری کے عدلیہ کے ساتھ تصادم کا احاطہ کیا گیا ہے۔ فرحت اللہ بابر کے مطابق بینظیر بھٹو اور نہ ہی آصف زرداری نے جسٹس افتخار چوہدری کی حمایت میں کسی طرح کا اظہار خیال کیا، زرداری کی رائے تھی کہ جسٹس چوہدری آزادی کی آڑ میں دیگر مفادات کی تکمیل کے لیے بھی کام کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: مانسہرہ پولیس نے ناران میں ہائیکنگ کے دوران راستہ بھٹکنے والی جرمن سیاح خاتون کو بحفاظت ڈھونڈ لیا
زرداری کا موقف اور دباؤ
چوہدری کی بحالی کی وکالت کرتے ہوئے لاہور سے لانگ مارچ کے دوران زرداری کو اپنے وزراء حتیٰ کہ وزیراعظم کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، تاہم زرداری شروع میں ثابت قدم رہے۔ ٹرپل ون بریگیڈ کی تعیناتی ایوان صدر کے اندر اس رات ہوئی جس رات مارچ اسلام آباد کے قریب پہنچا۔
فرحت اللہ بابر کا تجزیہ
فرحت اللہ بابر نے لکھا کہ اس ممکنہ چال کی وجہ سے شاید فوجی قبضے کا تاثر پیدا کیا ہو لیکن ایسا بالکل نہیں تھا۔








