سنی اتحاد کونسل کا انتخابی نشان کیا اور صاحبزادہ حامد رضا نے آزاد الیکشن کیوں لڑا؟ وکیل فیصل صدیقی نے آئینی بنچ کو بتا دیا
سپریم کورٹ کی سماعت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ آئینی بنچ میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں وکیل سنی اتحاد کونسل فیصل صدیقی نے جسٹس مسرت ہلالی کے سوال "سنی اتحاد کونسل کا انتخابی نشان کیا ہے اور صاحبزادہ حامد رضا نے آزاد الیکشن کیوں لڑا؟" کا جواب دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اے این پی کے مقامی رہنما قاتلانہ حملے میں جاں بحق
نظرثانی کیس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، سپریم کورٹ آئینی بنچ میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی۔ دوران سماعت، سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کچھ فریقین نے اضافی گزارشات جمع کرائی ہیں، جن کی نقول انہیں آج ملی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل سے آؤٹ ہونے کے بعد کراچی کنگز کے کپتان ڈیوڈ وارنر کا مؤقف آگیا، پاکستانیوں کے دل جیت لیے
ججز کے سوالات
جسٹس جمال مندوخیل نے مسلم لیگ ن کے وکیل سے استفسار کیا کہ ایک جماعت کے امیدواروں کو آزاد کیسے ڈکلیئر کردیا گیا؟ وکیل حارث عظمت نے کہا کہ میں نے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ فیصل صدیقی نے کہا کہ کچھ درخواستوں میں سپریم کورٹ کے قواعد کو مدنظر نہیں رکھا گیا، اور انہوں نے استدعا کی کہ ان درخواستوں کو مسترد کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی سینئر عہدیدار کے تھنک ٹینک میں بیان پر دفترِ خارجہ کا ردِعمل سامنے آ گیا
حامد رضا کا انتخابی نشان
فیصل صدیقی نے وضاحت کی کہ سنی اتحاد کونسل کا انتخابی نشان گھوڑا ہے، لیکن حامد رضا نے آزاد الیکشن کیوں لڑا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا، "ہمارے سامنے یہ معاملہ نہیں ہے کہ کون کیسے لڑا"، جبکہ جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ مجھے اس کا تسلی بخش جواب نہیں ملا۔
یہ بھی پڑھیں: گھریلو جھگڑا خونریزی میں تبدیل؛ بھائی کے ہاتھوں بھائی، بھابی اور بھتیجا قتل
پارلیمانی پارٹی کے قیام کی وضاحت
جسٹس مسرت ہلالی نے مزید وضاحت کی کہ صاحبزادہ حامد رضا کی سیاسی جماعت 2013 سے موجود ہے۔ جو جماعت الیکشن لڑے وہی پارلیمانی پارٹی بناتی ہے، تو سوال یہ ہے کہ وہ اپنی جماعت سے نہیں لڑے، پھر پارلیمانی پارٹی کیوں بنائی؟
یہ بھی پڑھیں: شاہی قلعہ لاہور میں والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے زیرِ اہتمام تاریخی ورثے کے اہم منصوبوں کا افتتاح
ووٹ کے حق پر بحث
مخصوص نشستوں کے فیصلے میں کہا گیا کہ ووٹ بنیادی حق ہے۔ فیصلے میں 3 دن کو بڑھا کر 15 دن کرنا آئین کو دوبارہ تحریر کرنے کے مترادف تھا۔
آزاد امیدواروں کی تنقید
وکیل فیصل صدیقی نے بتایا کہ 11 ججز نے آزاد امیدواروں کو پی ٹی آئی کا تسلیم کیا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 39 امیدواروں کی حد تک، میں اور قاضی فائز عیسیٰ بھی 8 ججز سے متفق تھے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی پی ٹی آئی کو پارٹی تسلیم کیا اور کہا کہ پی ٹی آئی نشستوں کی حقدار ہے۔








