وہ ہتھیار جو روایتی ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہے
ہائیڈروجن بم: ایک انتہائی خطرناک ہتھیار
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایٹم بم کو انتہائی تباہ کن سمجھا جاتا ہے لیکن ایک ہتھیار روایتی ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہے، یہ ہائیڈروجن بم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہیونڈائی نشاط موٹرز پر دھوکہ دہی پر مبنی اشتہار جاری پر 2.5 کروڑ روپے جرمانہ
ہائیڈروجن بم کی خصوصیات
ہائیڈروجن بم جسے تھرمل نیوکلیئر ویپن بھی کہا جاتا ہے، ایٹمی ہتھیاوں کی ایک ایسی قسم ہے جو فیوژن کے عمل پر مبنی ہوتی ہے۔ اس میں ہائیڈروجن کے ہلکے ایٹم آپس میں جُڑ کر بھاری ایٹم بناتے ہیں اور اس کے نتیجے میں انتہائی زیادہ توانائی خارج ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں فورم آف امبڈسمن کا 30ویں اجلاس، وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی کی شرکت
ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم میں فرق
انڈیا ڈاٹ کام کے مطابق عام ایٹم بم میں یورینیم یا پلٹونیم کے ایٹموں کا فِیوژن ہوتا ہے، لیکن ہائیڈروجن بم میں سب سے پہلے فشن کے ذریعے شدید گرمی اور دباؤ پیدا کیا جاتا ہے، پھر اس گرمی سے فیوژن کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اس عمل سے خارج ہونے والی توانائی عام ایٹم بم کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ تباہ کن ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے مختلف شہروں میں آندھی اور طوفان، مختلف حادثات میں 10 افراد جاں بحق
کوئی بم کی دو بنیادی سطحیں
اس بم کی دو بنیادی سطحیں ہوتی ہیں: پہلی فشن اور دوسری فیوژن۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کا منصب بہت ہی سنجیدگی کا متقاضی ہے، ٹکراؤ کسی بھی صورت مسئلے کا حل نہیں ہوسکتا، ایمل ولی خان
تاریخی تجربات
سنہ 1961 میں سابق سوویت یونین نے دنیا کا سب سے بڑا ہائیڈروجن بم، جسے 'زار بومبا' کہا جاتا ہے، تجرباتی طور پر پھاڑا تھا، جس کی تباہی 50 میگا ٹن ٹی این ٹی کے برابر تھی۔ ہائیڈروجن بم کی تیاری سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ کا اہم حصہ تھی۔
خطرات اور اثرات
یہ بم اتنی شدت سے تباہی پھیلا سکتا ہے کہ اس کا شمار اب دنیا کے سب سے خطرناک ہتھیاروں میں ہوتا ہے۔








