صدر ٹرمپ نے ثابت کردیا کہ وہ امن کے پیامبر ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف
وزیر اعظم شہباز شریف کی تقریر
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی کردار کو سراہتے ہیں، صدر ٹرمپ نے بغیر کسی شبے کے ثابت کردیا کہ وہ امن کے پیامبر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا 100 نہتے آدمی گوریلا کا مقابلہ کرسکتے ہیں؟ ماہر حیوانات نے مشہور سوال کا حیران کن جواب دے دیا
امریکہ کی آزادی کی 249 ویں سالگرہ
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع امریکی سفارت خانے میں منعقدہ امریکہ کی آزادی کی 249 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت، سفارت خانے اور امریکی عوام کو آج کے دن کی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی مینز پلئیر آف دی منتھ کیلئے نامزدگیوں کا اعلان کردیا گیا
پاک امریکا تعلقات کی مضبوطی
وزیر اعظم نے کہا کہ پاک امریکا تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہیں، دونوں ملک جمہوری روایات اور آئین کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں، امریکا پاکستان کو تسلیم کرنے والے ابتدائی ممالک میں شامل تھا۔
یہ بھی پڑھیں: الیکٹرک گاڑیوں، کاروں، ایل سی ویز، وینز اور جیپوں کی فروخت میں 28 فیصد اضافہ
دہشت گردی کے خلاف جنگ
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی ایک تاریخ ہے، جو نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے دوران نمایاں ہوئی۔ 2018ء میں پاکستان نے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کر دیا تھا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری جانی مالی نقصان اٹھایا، 90 ہزار سے زائد شہادتیں اور 150 ارب ڈالرز سے زائد کا معاشی نقصان ہوا، انسدادِ دہشت گردی کے لیے پاکستان کی قربانیاں کسی سے کم نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کون ہوگا امریکہ کا نیا صدر؟ ٹرمپ اور کملا میں کانٹے کا مقابلہ
بھارت کے خلاف دفاعی اقدامات
وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری توجہ معیشت کو مضبوط بنانے پر ہے، ہم نے پہلگام واقعے پر بھارت کو غیر جانبدارانہ عالمی انکوائری کی پیشکش کی۔ مگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا۔ پاکستان نے اپنے دفاع میں بھارت کے 6 جہاز مار گرائے۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان میں ’’دعا اور محبت ہمارا ہتھیار ہے‘‘ کہنے والے مقامی مسیحی رہنما اسرائیلی حملے میں مارے گئے
پہلگام واقعہ
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ کوئی شک نہیں کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن تھا، پاکستان نے دنیا کے سامنے اس کے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے اور اس حوالے سے شفاف تحقیقات کی پاکستان کی پیشکش کو بھی قبول نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عظیم کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی آج چوتھی برسی منائی جا رہی ہے
امریکہ کی کوششیں
وزیرِ اعظم نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ سرد اور گرم جنگ کے خلاف ہیں، جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کے اہم کردار کو سراہتے ہیں۔ امن کے فروغ اور اقتصادی روابط میں اضافے کے لیے صدر ٹرمپ کی کوشش قابلِ ستائش ہے۔
تجارتی تعلقات
انہوں نے کہا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے لیے دوست ملکوں کے شکرگزار ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی پر عمل ہو رہا ہے، امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات بڑھانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔









