ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے قانونی فریم ورک کا مسودہ سامنے آ گیا
ڈیجیٹل اثاثوں کے لئے قانونی فریم ورک
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارتِ قانون نے ڈیجیٹل اثاثوں کیلئے قانونی فریم ورک کا مسودہ پیش کیا، جو اہم سٹیک ہولڈرز اور تکنیکی ماہرین کے اشتراک سے تیار کیا گیا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے فریم ورک کو حتمی شکل دے کر جلد نافذ کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے کل ملاقات کا دن، فہرست جیل حکام کو ارسال
اجلاس کی تفصیلات
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق قانونی فریم ورک کا مسودہ اسلام آباد میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی صدارت میں ڈیجیٹل اثاثوں کی قانون سازی پر اجلاس میں پیش کیا گیا۔ اجلاس میں تیز قانون سازی اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے ایران پر حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جائز قرار دیدیے۔
ریگولیٹری ڈھانچہ اور سرمایہ کاروں کی حفاظت
اعلامیے کے مطابق مجوزہ قانون ڈیجیٹل، ورچوئل اثاثوں سے متعلق مضبوط ریگولیٹری ڈھانچہ پیش کرے گا۔ اس میں گورننس کا طریقہ کار، لائسنسنگ کے پروٹوکولز اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کے اقدامات بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عظمی بخاری بے بنیاد اور گمراہ کن بیانات دینے سے باز رہیں، رمضان ریلیف پیکج پر مردہ سیاست چمکانا پنجاب حکومت کی بے حسی کاثبوت ہے، شفیع جان
تجاویز اور اقتصادی فوائد
اجلاس میں مسودے کا تفصیلی جائزہ لے کر تجاویز شامل کی گئیں۔ وزیر خزانہ نے متعلقہ فریقین کی مشترکہ کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلاک چین اور کرپٹو ٹیکنالوجیز کے معاشی فوائد کو بروئے کار لایا جائے گا۔
کونسل اور بلاک چین کے فوائد
اجلاس میں ڈیجیٹل اور ورچوئل اثاثوں کیلئے جامع ریگولیٹری فریم ورک اور پاکستان کرپٹو کونسل پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ بلاک چین اور کرپٹو سے متعلق معاون خصوصی بلال بن ثاقب نے اجلاس میں ورچوئل شرکت کی۔








