عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک کی تیاری کر رہے ہیں، علی امین گنڈا پور
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عمران خان کی رہائی کی تیاری
ڈی آئی خان(ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہماری عدلیہ آزادی نہ ہونے کی وجہ سے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان جیل میں ہیں، تاہم ان کی رہائی کے لیے تحریک کی تیاری کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ڈینگی مچھر کا لاروا بننا شروع، ایڈوائزری جاری
عدلیہ کی آزادی کی ضرورت
ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی تحریک کی رہائی عدالتوں سے منسلک ہے اور ہماری عدلیہ آزاد نہیں ہے۔ ملک میں عدلیہ کی عدم آزادی کی وجہ سے عمران خان کو جیل میں ڈالا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بدنام زمانہ سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین فائلز میں مودی کا نام بھی سامنے آگیا
تحریک کی کامیابی کا انحصار
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کی تحریک کی کامیابی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، ہم نے پہلے بھی تحریک چلائی ہے اور اب دوبارہ تحریک کی تیاری کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق جہانگیری کو کام سے روکنے کا حکم نامہ جاری
صوبے کا ٹیکس فری بجٹ اور ترقیاتی منصوبے
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبے میں ٹیکس فری بجٹ دیا جائے گا اور عوام پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔ صوبے میں میگا پراجیکٹس شروع کیے جا رہے ہیں اور پشاور-ڈیرہ موٹروے پر کام ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کو دفاتر کیلئے ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی زمین لینے سے روک دیا گیا
تعلیمی ایمرجنسی اور نوجوانوں کی مدد
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایجوکیشن ایمرجنسی لگا رہے ہیں اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ نوجوانوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں گے، صوبے کے پاس قرض کی ادائیگی کے لیے 150 ارب مختص کر رکھے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی میڈیا جھوٹی خبریں چلا رہا ہے، میں نے کسی سے معذرت نہیں کی، محسن نقوی
مقروض ملک کی صورتحال
انہوں نے کہا کہ صوبے کے پاس اتنے پیسے ہیں کہ وفاق کو قرض دے سکتے ہیں۔ مقروض ملک آزاد اور خود مختار فیصلے نہیں کر سکتا۔ ہم شروع سے کہہ رہے ہیں کہ افغانستان کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہو گا۔
افغانستان سے مذاکرات
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وفاقی حکومت نے افغانستان کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں صوبے کو بھی شامل کیا جائے اور یہ بات جرگے میں بھی کہی گئی ہے۔








