امریکہ نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کو اہم شراکت دار قرار دیدیا
پاکستان کا اہم کردار
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل ایرک کوریلا نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کو اہم شراکت دار قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمٰن کی لندن سے واپسی کب ہو گی ، ذرائع نے اہم اطلاع دیدی
دنیا کی معترف
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف مثبت اور فعال کردار کی پوری دنیا معترف ہے، امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی آبی جارحیت کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے: حافظ نعیم الرحمان
سینیٹ میں اظہار خیال
امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں اظہار خیال کرتے ہوئے جنرل کوریلا کا کہنا تھا کہ ’داعش خراسان اس وقت عالمی سطح پر سب سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں میں شمار ہوتی ہے، پاکستان ایک غیر معمولی انسدادِ دہشت گردی شراکت دار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم روکھی سوکھی کھاکر گزارہ کر لیں گے لیکن خوددار قوم کی حیثیت سے اپنی آزادی اور سلامتی کے تحفظ کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے
رہنماؤں کی گرفتاری
جنرل کوریلا نے اعتراف کیا کہ ’پاکستان کے ساتھ قریبی انٹیلی جنس تعاون کے نتیجے میں داعش خراسان کے درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک اور گرفتار کیا گیا‘ ان گرفتاریوں میں تنظیم کے کم از کم پانچ انتہائی مطلوب رہنما بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صہیونیوں کے قدم اکھڑ رہے ہیں، نیتن یاہو کو ’’ڈھونڈ کر قتل‘‘ کر دیں گے : پاسداران انقلاب کی دھمکی
انسداد دہشتگردی میں کامیابیاں
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام نے انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے امریکہ کو دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کئی اہم کامیابیاں دلائیں، ان کامیابیوں میں ایبے گیٹ بم دھماکے کے ماسٹر مائنڈ جعفر کی گرفتاری اور اس کی حوالگی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوجرخان میں نامعلوم شخص کی لاش کا معمہ حل
مؤثر انٹیلی جنس تعاون
سربراہ سینٹ کام نے کہا کہ اس گرفتاری کے فوراً بعد، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ذاتی طور پر رابطہ کر کے اطلاع دی۔ جنرل کوریلا نے کہا کہ پاکستان محدود مگر مؤثر انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے ذریعے داعش خراسان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر ملزم کسی دوسرے مقدمے میں شناخت ہو جاتا ہے تو عدالت گرفتاری کیسے روک سکتی ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے کیس میں ریمارکس
سیکیورٹی کی صورت حال
جنرل کوریلا نے مزید کہا کہ اس وقت یہ دہشت گرد گروہ پاکستان اور افغانستان کی سرحدی پٹی میں سرگرم ہے، پاکستان کی شراکت داری انسداد دہشت گردی کے عالمی تناظر میں انتہائی اہم اور مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فافن نے الیکشن ٹریبونلز کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ جاری کردی
حملوں کی تعداد
امریکی جنرل نے کہا کہ 2024ء کے آغاز سے اب تک پاکستان کے مغربی علاقوں میں ایک ہزار سے زائد دہشتگرد حملے ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی جانے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کے لیے اہم خبر
جاں بحق و زخمی افراد
سربراہ سینٹرل کمانڈ کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں تقریباً 700 سیکورٹی اہلکار اور شہری جاں بحق اور 2500 زخمی ہوئے ہیں، پاکستان فعال انسداد دہشتگردی کی جنگ لڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا ؟
داعش خراسان کی حالت
جنرل کوریلا نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ داعش خراسان کمزور ہو چکی ہے اور اس کی سرگرمیوں میں کمی آئی ہے، اس کی بنیادی وجہ حالیہ مہینوں میں انہیں پہنچنے والا بھاری نقصان ہے۔
پاکستان اور بھارت کے تعلقات
ہمیں پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ تعلقات رکھنا ہوں گے۔ سربراہ سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی ایسا دو ٹوک فیصلہ ہے کہ اگر بھارت سے تعلق ہو تو پاکستان سے نہیں ہو سکتا۔








